لاہور — لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے میں ملبے تلے دبنے والے ایک استاد نے عمارت کی مضبوطی سے متعلق سرکاری دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ ابتدائی طور پر اس واقعے کو حالیہ مون سون بارشوں کا نتیجہ قرار دے رہی تھی، تاہم کلاس روم کے اندر موجود عینی شاہد کی گواہی نے انتظامیہ کی غفلت کا پول کھول دیا ہے۔
منگل کے روز پیش آنے والے اس واقعے میں متعدد ہڈیاں ٹوٹنے کے باعث جناح ہسپتال میں زیر علاج محمد اسلم کا کہنا ہے کہ اساتذہ نے چھت میں پڑنے والی گہری دراڑوں کے بارے میں انتظامیہ کو کئی ہفتے قبل آگاہ کیا تھا۔ ان کا یہ بیان اس سرکاری بیانیے کے برعکس ہے جس میں سارا ملبہ موسمیاتی اثرات پر ڈالا جا رہا ہے۔
محمد اسلم نے ہسپتال کے بستر سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہمیں چھت گرنے سے کافی دیر پہلے ہی اس کے چرچراہٹ کی آوازیں سنائی دینے لگی تھیں۔” ان کے مطابق، انتظامیہ نے مرمت کے اخراجات اور متبادل جگہ نہ ہونے کا بہانہ بنا کر ان تنبیہی اشاروں کو نظر انداز کر دیا۔
اس واقعے میں تین طلبا جاں بحق اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے، جس نے شہر میں غیر منظم نجی تعلیمی شعبے کی حفاظت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ لاہور کے رہائشی علاقوں میں ہزاروں ایسے ٹیوشن سینٹرز قائم ہیں جو ایسے گھروں میں چلائے جا رہے ہیں جن کا ڈھانچہ بھاری فرنیچر اور درجنوں طلبا کا بوجھ اٹھانے کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کیا گیا تھا۔
لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کا موقف ہے کہ مذکورہ سینٹر بغیر کسی حفاظتی سرٹیفکیٹ کے چل رہا تھا۔ سوال یہ ہے کہ حکومتی انسپکٹرز تین سال تک اس گنجان آباد علاقے میں قائم اس عمارت سے کیسے بے خبر رہے؟
شہری انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اعتراف کیا کہ موجودہ انسپکشن کا نظام صرف حادثات کے بعد حرکت میں آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، "ہم شکایات پر کارروائی کرتے ہیں۔ ہمارے پاس اتنی افرادی قوت نہیں کہ ہر گلی میں جا کر غیر قانونی کمرشل سرگرمیوں کی جانچ کر سکیں۔”
محمد اسلم کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ جب شکایات کی جائیں تو وہ بھی انتظامیہ کی بے حسی کی نذر ہو جاتی ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے بیوروکریسی کا ایک دوسرے پر الزام تراشی کا کھیل کوئی معنی نہیں رکھتا۔
پولیس نے عمارت کے مالک اور ٹیوشن سینٹر کے ڈائریکٹر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، جو فی الحال روپوش ہیں۔ امدادی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں، لیکن اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سانحہ لاہور میں قائم ہزاروں عارضی کلاس رومز کے آڈٹ کا باعث بنے گا، یا شہر کو کسی اگلے حادثے کا انتظار رہے گا؟
