برطانیہ کے ویک ہرسٹ بوٹینک گارڈن میں شہد کی مکھیوں اور دوسرے پولینیٹرز کی تعداد بڑھانے کے لیے ایک نئی تحقیق شروع کی گئی ہے، جسے محققین اہم اور نئی نوعیت کا منصوبہ قرار دے رہے ہیں۔ یہ منصوبہ “دی بز اباؤٹ ٹریز” کے نام سے جاری ہے اور اس کا مقصد یہ جاننا ہے کہ کون سے درخت مکھیوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔
اس تحقیق میں درختوں پر خاص حیاتی صوتی آلات نصب کیے گئے ہیں جو مکھیوں کے پروں کی بھنبھناہٹ سن کر ان کی موجودگی کا اندازہ لگاتے ہیں۔ ان آوازوں کے تجزیے سے ماہرین ایسے نقشے تیار کر رہے ہیں جن سے معلوم ہو سکے کہ کس جگہ اور کس درخت کے گرد پولینیٹرز کی سرگرمی زیادہ ہے۔ ویک ہرسٹ کے مطابق یہ طریقہ غیر مداخلتی ہے اور سائنس دانوں کو اہم ماحولیاتی معلومات فراہم کرے گا۔
اس منصوبے کے پیچھے ایک اہم سائنسی خیال یہ ہے کہ درخت شاید مکھیوں کے لیے اتنے ہی اہم ہوں جتنا کہ عام طور پر جنگلی پھولوں یا باغیچوں کو سمجھا جاتا ہے، مگر اس پہلو پر نسبتاً کم تحقیق ہوئی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر شہروں اور گنجان آبادی والے علاقوں میں درخت پولینیٹرز کے لیے مفید خوراکی اور حیاتیاتی سہارا ثابت ہو سکتے ہیں۔
تحقیق کا مقصد صرف سائنسی معلومات جمع کرنا نہیں بلکہ اس کے عملی فوائد بھی سامنے لانا ہے۔ اگر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کچھ درختی اقسام مکھیوں کو زیادہ سہارا دیتی ہیں، تو یہ نتائج شہری منصوبہ بندی، شجرکاری، اور حیاتیاتی تنوع کی پالیسیوں میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ محققین کو امید ہے کہ اس سے آئندہ شہروں میں ایسے درخت زیادہ لگائے جا سکیں گے جو پولینیٹرز کے لیے واقعی فائدہ مند ہوں۔
یہ تحقیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنگلی شہد کی مکھیوں کی آبادی میں کمی پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ ویک ہرسٹ اور کیو سے وابستہ سائنس دانوں کے مطابق پولینیٹرز کی گرتی ہوئی تعداد صرف قدرتی ماحول ہی نہیں بلکہ خوراکی نظام اور مجموعی ماحولیاتی توازن کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ اسی لیے اس منصوبے کو ایک تجرباتی مطالعے سے بڑھ کر، تحفظِ فطرت کے عملی آلے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
یوں یہ تحقیق محض مکھیوں کی بھنبھناہٹ سننے کا سائنسی تجربہ نہیں، بلکہ اس بڑے سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش ہے کہ ہم اپنے باغات، پارکوں اور شہروں کو ایسا کیسے بنائیں جہاں فطرت دوبارہ سانس لے سکے
