پاکستان میں شدید ہیٹ ویوز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ پانی کی کمی، غیر متوقع بارشیں، شہری سیلاب، فصلوں کی تباہی اور خراب ہوتی ہوا کا معیار بھی سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ مسائل اب الگ الگ ماحولیاتی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے موسمیاتی بحران کا حصہ ہیں۔
موسمیاتی محقق ڈاکٹر محمد بلال طاہر کے مطابق پاکستان اب موسمیاتی تبدیلی کو روزمرہ زندگی میں محسوس کر رہا ہے، جو صحت، زراعت، انفراسٹرکچر اور معیشت کو براہ راست متاثر کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت مزدوروں کی پیداوار کم کر رہا ہے، بجلی کی طلب بڑھا رہا ہے اور پانی کی قلت کو شدید بنا رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کو صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی ترقی کا بڑا چیلنج سمجھنا ہوگا، جس کے لیے فوری، عملی اور سائنسی بنیادوں پر اقدامات ضروری ہیں۔
ڈاکٹر طاہر کے مطابق پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیسز میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ ممالک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات جیسے سیلاب، خشک سالی اور ہیٹ ویوز سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔
وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے صرف نظری تحقیق تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی مسائل کے حل پر کام کریں۔ ان کے مطابق قابلِ تجدید توانائی، جدید مواد، پانی کی صفائی اور موسمیاتی مزاحم انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں تحقیق کو فروغ دینا ضروری ہے۔
ڈاکٹر طاہر تعلیمی نظام میں بھی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شعبے میں موسمیاتی آگاہی شامل کی جائے تاکہ انجینئرز، ڈاکٹرز، ماہرینِ معیشت اور پالیسی ساز سب اس بحران کو بہتر سمجھ سکیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کو اب علامتی اقدامات سے نکل کر سائنس، ٹیکنالوجی اور عملی پالیسی سازی کی طرف جانا ہوگا تاکہ مستقبل میں موسمیاتی خطرات سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔
