وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے آج اسلام آباد اور لاہور سمیت بڑے شہروں میں کارروائی کرتے ہوئے پاسپورٹ میں جعل سازی اور رشوت ستانی میں ملوث 12 افراد کو گرفتار کر لیا۔ یہ آپریشن پاسپورٹ کے حصول میں حائل رکاوٹوں اور طویل انتظار کی فہرستوں کو ختم کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔
گرفتار ہونے والوں میں پاسپورٹ آفس کے نچلی سطح کے ملازمین اور پرائیویٹ ایجنٹ شامل ہیں۔ یہ گروہ درخواست گزاروں سے فوری پاسپورٹ کے نام پر 50 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک وصول کر رہا تھا۔ ملزمان کا دعویٰ تھا کہ وہ 48 گھنٹے کے اندر پاسپورٹ فراہم کر دیں گے، جبکہ موجودہ نظام میں یہ ڈیڈ لائن عملی طور پر ناممکن ہے۔
ایف آئی اے کے ایک اعلیٰ افسر نے کارروائی کے بعد بتایا کہ انہیں علاقائی دفاتر کے اندر اور باہر ایک منظم نیٹ ورک کی اطلاعات ملی تھیں۔ "یہ صرف پیسے نہیں لے رہے تھے، بلکہ یہ ڈیجیٹل لاگز میں ردوبدل کر کے اپنے گاہکوں کو ان شہریوں پر ترجیح دے رہے تھے جو مہینوں سے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔”
یہ کریک ڈاؤن عوامی غصے کے پیش نظر کیا گیا۔ سال 2024 کے آغاز سے ہی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کو لیمینیشن پیپر اور پرنٹنگ ربن کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے پاسپورٹ کے حصول کا دورانیہ تین ماہ سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس قلت نے مافیا کو اپنی جڑیں مضبوط کرنے کا موقع فراہم کیا۔
چھاپوں کے دوران ایف آئی اے نے درجنوں جعلی درخواست فارمز، انٹرنل ٹریکنگ سسٹم کے پاس ورڈز اور ان لیجرز کو قبضے میں لیا ہے جن میں سینکڑوں متاثرین سے وصول کی گئی رقوم کا ریکارڈ درج ہے۔ تفتیشی ٹیمیں اب گرفتار ملازمین کے ڈیجیٹل ڈیٹا کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اعلیٰ حکام اس دھندے سے آگاہ تھے یا نہیں۔
عام شہریوں کے لیے یہ گرفتاریاں اگرچہ خوش آئند ہیں، تاہم فوری ریلیف کی امید کم ہے۔ پاسپورٹ پرنٹنگ فیسلٹی میں تکنیکی مسائل بدستور برقرار ہیں اور حکام کی جانب سے اب تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ معمول کے مطابق پاسپورٹ کب جاری ہونا شروع ہوں گے۔
ایف آئی اے نے تصدیق کی ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کے مرکزی کرداروں تک پہنچنے کے لیے مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔ فی الحال پاسپورٹ دفاتر کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے تاکہ اس نظام کو دوبارہ اپنی گرفت میں لیا جا سکے جو گزشتہ کئی ماہ سے کرپشن کی نذر تھا۔
