پنجاب کے بیشتر علاقوں میں بدھ کے روز ہونے والی ہلکی اور تیز بارش نے طویل خشک موسم کا خاتمہ کر دیا ہے۔ لاہور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد سمیت کئی شہروں میں دوپہر کے بعد اچانک بادل برس پڑے، جس سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
لاہور کی سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ شہر کے نشیبی علاقوں میں نکاسی آب کا نظام ایک بار پھر دباؤ کا شکار رہا، جبکہ شاہراہوں پر موٹر سائیکل سواروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بارش ایسے وقت میں ہوئی ہے جب صوبے کے بڑے شہروں میں سموگ کی صورتحال تشویشناک حد تک بڑھ رہی تھی۔ ماہرینِ ماحولیات کا ماننا ہے کہ اس بارش سے ہوا کے معیار میں بہتری آئے گی اور فضا میں موجود گرد و غبار کی تہہ دھل جائے گی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شمال مغرب سے داخل ہونے والا یہ موسمیاتی نظام اگلے چند گھنٹوں تک فعال رہے گا۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ "بارش کا سلسلہ رات گئے تک تھم جائے گا، تاہم اس کے بعد سردی کی لہر میں تیزی آئے گی۔”
زرعی اعتبار سے یہ بارش گندم کی کاشت کرنے والے کسانوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ ماہرینِ زراعت کا کہنا ہے کہ اگر بارش کا یہ سلسلہ بہت زیادہ طویل نہ ہوا تو یہ زمین کی نمی کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔
دوسری جانب، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے شمالی اضلاع میں الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نکاسی آب کے نظام کو ہنگامی بنیادوں پر فعال رکھیں۔
بارش کے بعد پنجاب بھر میں موسم کا مزاج بدل گیا ہے۔ جمعرات کی صبح سے خنکی میں اضافے کے ساتھ ہی سردیوں کا باقاعدہ آغاز متوقع ہے۔
