کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں کوئٹہ سے لائے گئے مریض میں کریمین-کونگو ہیمرجک فیور کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد محکمہ صحت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
مریض، جس کی شناخت طبی رازداری کے پیش نظر ظاہر نہیں کی گئی، تیز بخار اور جسمانی اعضاء سے خون بہنے کی علامات کے ساتھ شہر پہنچا تھا۔ ہسپتال انتظامیہ نے اسے فوری طور پر قرنطینہ منتقل کر دیا ہے۔ اب صوبائی حکام ان افراد کی تلاش میں ہیں جو بلوچستان سے کراچی کے سفر کے دوران اس مریض کے رابطے میں رہے ہوں گے۔
کانگو وائرس شہری آبادیوں میں پہنچنے کے بعد تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ مرض بنیادی طور پر چیچڑیوں کے کاٹنے یا متاثرہ مویشیوں کے خون اور گوشت کے براہ راست رابطے سے منتقل ہوتا ہے۔ عید الاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی مویشی منڈیوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے یہ خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
ماہرینِ صحت طویل عرصے سے متنبہ کر رہے ہیں کہ صوبائی سرحدوں پر سخت اسکریننگ کا فقدان ایسے کیسز کو بغیر کسی رکاوٹ کے کراچی تک پہنچنے کا موقع دیتا ہے۔ اگرچہ شہر کے بڑے ہسپتالوں میں انفرادی کیسز کو سنبھالنے کی سہولیات موجود ہیں، مگر مقامی سطح پر وائرس کے پھیلاؤ کی صورت میں طبی نظام پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
سندھ کے محکمہ صحت نے تمام بڑے ہسپتالوں کو الرٹ جاری کر دیا ہے اور طبی عملے کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہیمرجک فیور کے مریضوں کے علاج کے دوران حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کریں۔ اس کے علاوہ، مویشی منڈیوں میں بھی فوری جراثیم کش اسپرے کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔
تاہم زمینی حقائق مختلف ہیں۔ مویشی منڈیوں میں اکثر بیوپاری حفاظتی لباس پہننے سے گریز کرتے ہیں، اور حکام کی جانب سے نقل و حمل کے مقامات پر گہرے صفائی کے پروٹوکولز کا نفاذ بھی شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے۔
مریض فی الحال تشویشناک حالت میں زیرِ علاج ہے۔ اگلے 48 گھنٹے انتہائی اہم ہیں، جن میں وائرس کے منبع کا تعین کرنے اور مریض کے اہل خانہ اور طبی عملے کو بروقت حفاظتی ادویات فراہم کرنے پر توجہ مرکوز ہے۔ اگر کانٹیکٹ ٹریسنگ میں کوتاہی ہوئی تو شہر کا پہلے سے دباؤ کا شکار طبی نظام ایک بڑے بحران کی زد میں آ سکتا ہے۔
