وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حکومت کی مدت کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اپنی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کریں گے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی کا لہجہ دو ٹوک تھا۔ انہوں نے اپوزیشن کے ان دعووں کو یکسر مسترد کر دیا جن میں موجودہ حکومت کے جلد خاتمے کی پیشگوئیاں کی جا رہی ہیں۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو نہ تو کوئی اندرونی خطرہ ہے اور نہ ہی اسے وقت سے پہلے ختم کرنے کی کوئی گنجائش موجود ہے۔
فروری کے عام انتخابات کے بعد سے ملک میں سیاسی عدم استحکام کی فضا برقرار ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سمیت اپوزیشن کی جانب سے موجودہ سیٹ اپ کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا موقف ہے کہ معاشی بحران اور عوامی ناراضگی کے باعث یہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔
محسن نقوی نے ان تمام دعووں کو محض سیاسی بیان بازی قرار دیا۔ ان کا استدلال تھا کہ موجودہ اتحادی حکومت کے پاس پارلیمنٹ میں مطلوبہ تعداد موجود ہے اور وہ ملک کو معاشی گرداب سے نکالنے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیر داخلہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں معاشی اشاریے تاحال دباؤ کا شکار ہیں۔ اگرچہ افراطِ زر میں کسی حد تک کمی دیکھی جا رہی ہے، لیکن مہنگائی کا بوجھ عام آدمی کی قوتِ خرید کو مسلسل متاثر کر رہا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سخت شرائط پر مبنی پروگرام بھی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
جب وزیر داخلہ سے اپوزیشن کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کے مطالبے پر سوال کیا گیا تو انہوں نے اسے غیر سنجیدہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے اس طرح کے بیانات دے رہی ہے، جبکہ حکومت کی پوری توجہ پالیسیوں پر عملدرآمد اور معاشی استحکام پر مرکوز ہے۔
محسن نقوی کے پُراعتماد دعووں کے باوجود، حکومت کے لیے چیلنجز کم نہیں۔ اتحادی حکومت کو ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنا ہے تو دوسری طرف عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا دباؤ بھی برداشت کرنا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، حکومت کی پانچ سالہ مدت کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ معاشی محاذ پر کتنی تیزی سے بہتری لا سکتی ہے۔
فی الحال حکومت کا سارا زور سیاسی استحکام پر ہے تاکہ معاشی فیصلوں کے نتائج برآمد ہو سکیں۔ کیا عوام اور سیاسی مخالفین حکومت کو یہ وقت دیتے ہیں یا نہیں، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
