دنیا بھر کے سمندروں کا درجہ حرارت اس سطح پر پہنچ چکا ہے جو سیٹلائٹ ریکارڈز کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ گزشتہ ایک سال سے سمندری سطح کی گرمی مسلسل نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے، اور موجودہ ’ایل نینو‘ کا رجحان اس آگ پر تیل کا کام کر رہا ہے۔
کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، فروری میں سمندری سطح کا اوسط درجہ حرارت 21.06 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو اب تک کا بلند ترین ماہانہ ریکارڈ ہے۔ یہ محض اعداد و شمار کا فرق نہیں، بلکہ زمین کے حرارت جذب کرنے کے نظام میں ایک خطرناک تبدیلی ہے۔
سمندر زمین کے لیے ایک بڑے ’ہیٹ سنک‘ کا کردار ادا کرتے ہیں، جو انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی 90 فیصد اضافی گرمی کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔ جب یہ نظام اپنی حد سے گزرتا ہے، تو اس کے نتائج تباہ کن ہوتے ہیں۔ سمندری لہروں کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت مرجان کی چٹانوں کو ختم کر رہا ہے، جبکہ مچھلیوں کے قدرتی ٹھکانے تبدیل ہونے سے ان مقامی معیشتوں کو شدید دھچکا پہنچ رہا ہے جو سمندری حیات پر انحصار کرتی ہیں۔
موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حرارت صرف ایل نینو کا نتیجہ نہیں، بلکہ دہائیوں سے جاری جیواشم ایندھن کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے سمندروں کا بنیادی درجہ حرارت ہی بڑھ چکا ہے۔ اب سمندروں کے پاس گرمی جذب کرنے کی وہ گنجائش نہیں رہی جو ماضی میں ہوا کرتی تھی۔
اس صورتحال کے فوری اثرات ساحلی علاقوں میں نظر آ رہے ہیں۔ گرم پانی سمندری طوفانوں کو مزید شدت عطا کر رہا ہے، جس سے معمولی طوفان بھی بہت کم وقت میں تباہ کن شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ساحلی آبادیوں کے لیے اس کا مطلب سطح سمندر میں اضافہ اور طوفانی لہروں کا بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔
ماہرینِ موسمیات کو خدشہ ہے کہ اگر ایل نینو کا اثر ختم بھی ہو جائے، تب بھی سمندروں کا مجموعی درجہ حرارت اپنی پرانی سطح پر نہیں آئے گا۔ یہ اضافی توانائی سمندر کی گہرائیوں میں جمع ہو چکی ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ اگلا ریکارڈ کب ٹوٹے گا، بلکہ یہ ہے کہ سمندر اس بڑھتی ہوئی گرمی کو مزید کتنی دیر تک برداشت کر پائیں گے۔
