عالمی درجہ حرارت میں حالیہ غیر معمولی اضافہ محض اتفاق نہیں، اس کے پیچھے بحر الکاہل کی سطح پر ہونے والی ایک بڑی موسمیاتی تبدیلی ‘ایل نینو’ کارفرما ہے۔ یہ رجحان اب صرف موسم کی خبروں تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ خوراک کی سپلائی، بجلی کے نظام اور مقامی معیشتوں کو براہِ راست متاثر کر رہا ہے۔
اگرچہ ہر بار ایل نینو کا اثر مختلف ہوتا ہے، لیکن تین بنیادی اشاریے یہ بتاتے ہیں کہ اس بار یہ صورتحال ماضی کی نسبت زیادہ سنگین کیوں ہے۔
1. سمندری سطح کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ
ایل نینو کے فعال ہونے کا سب سے واضح ثبوت بحر الکاہل کے ‘نینو 3.4’ خطے میں پانی کا درجہ حرارت ہے۔ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق، پانی کی سطح کا درجہ حرارت طویل مدتی اوسط سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک اوپر چلا گیا ہے۔
یہ محض ایک معمولی تبدیلی نہیں ہے۔ یہ گرم پانی فضا کے لیے ایک بڑے ہیٹر کا کام کرتا ہے، جو عالمی ہوائی دھاروں کا رخ موڑ دیتا ہے۔ نتیجہ؟ جنوب مشرقی ایشیا کے زرعی مراکز سے بارشیں غائب ہو جاتی ہیں، جبکہ امریکہ کے مختلف حصوں میں تباہ کن سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ تبدیلی فوری ہے اور اس کا فضائی ردعمل انتہائی شدید ہوتا ہے۔
2. گندم کی قیمتوں اور موسم کا تعلق
گزشتہ چھ ماہ کے بازار کے اعداد و شمار ایل نینو کی پیش رفت اور بنیادی اجناس کی قیمتوں کے درمیان ایک گہرا تعلق ظاہر کرتے ہیں۔ جیسے جیسے آسٹریلیا اور بھارت کے کچھ حصوں میں ہیٹ ویوز اور خشک سالی فصلوں کو تباہ کر رہی ہے، عالمی منڈی میں گندم کے مستقبل کے سودے مہنگے ہو رہے ہیں۔
ماہرین اسے ‘مرکب اثر’ قرار دیتے ہیں۔ جب ایل نینو کی وجہ سے خشک سالی آتی ہے تو یہ صرف پیداوار کم نہیں کرتی، بلکہ ممالک کو درآمدات کے لیے بھاگ دوڑ پر مجبور کر دیتی ہے، جس سے عالمی ذخائر سکڑ جاتے ہیں۔ قیمتوں میں یہ اضافہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک پوشیدہ ٹیکس کی طرح ہے، جو بحر الکاہل کے ایک موسمی رجحان کو افریقہ اور ایشیا میں خوراک کے بحران میں بدل دیتا ہے۔
3. بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب
شاید سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا پہلو ‘کولنگ ڈگری ڈیز’ میں اضافہ ہے—یعنی عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے درکار توانائی کی مقدار۔
جنوبی نصف کرہ کے بڑے شہری مراکز سے ملنے والا ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ بجلی کی مانگ میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جس کا تعلق براہِ راست ایل نینو کی شدت سے ہے۔ جن خطوں میں پہلے ہی انفراسٹرکچر کمزور ہے، وہاں بجلی کے گرڈز پر دباؤ انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ یہ ایک خطرناک چکر ہے: گرمی بجلی کے استعمال کو بڑھاتی ہے، جس کے لیے اکثر جیواشم ایندھن جلایا جاتا ہے، جو طویل مدتی گلوبل وارمنگ میں اضافہ کر کے ہر آنے والے ایل نینو کو مزید خطرناک بنا دیتا ہے۔
نتیجہ
ایل نینو کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں، بلکہ ایک محرک ہے۔ یہ موجودہ موسمیاتی کمزوریوں—جیسے کمزور بجلی کے نظام، نازک غذائی زنجیروں، اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت—کو مزید ہوا دیتا ہے۔
موجودہ ڈیٹا یہ واضح کرتا ہے کہ اب ہم صرف موسم کی نگرانی کے مرحلے سے آگے نکل چکے ہیں۔ یہ ایک عالمی نظامی دھچکا ہے جس کا سامنا دنیا کو کرنا پڑ رہا ہے۔ پالیسی سازوں کے لیے سوال یہ نہیں کہ بحر الکاہل کو گرم ہونے سے کیسے روکا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے تباہ کن اثرات کی قیمت ادا کرنے کے لیے وہ کب تک تیار رہیں گے۔
