اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے منگل کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جانب سے دائر توہینِ عدالت کی درخواست سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات دور کرنے کے بعد دوبارہ جمع کرادی۔
پی ٹی آئی نے گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے سے متعلق عدالت کے 18 اگست کے حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ عدالت نے اپنے حکم میں عمران خان کو چند روز کے علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے اور خاندان سے ہفتہ وار ملاقاتوں کا انتظام کرنے کی ہدایت کی تھی۔
منگل کو سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے ابتدائی طور پر درخواست اعتراضات لگا کر واپس کردی، تاہم بعد میں اسے درخواست نمبر 8/2026 الاٹ کردیا گیا۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے بتایا کہ انہوں نے عوامی سہولت مرکز میں رجسٹرار سے ملاقات کی، جہاں انہیں درخواست پر اعتراضات سے آگاہ کیا گیا۔
گوہر خان نے کہا کہ پارٹی اعتراضات دور کرکے توہینِ عدالت کی درخواست دوبارہ جمع کرائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ اسی بینچ کی تشکیل آج ہی کی جائے تاکہ کیس کی سماعت جمعرات کو ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا اور پی ٹی آئی نے درخواست کی ہے کہ توہینِ عدالت کیس کی جلد سماعت مقرر کی جائے۔
گوہر خان نے عمران خان کی صحت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کے اہلخانہ کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ بحال کیا جائے۔
دریں اثنا، ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بھی سپریم کورٹ میں اپنی توہینِ عدالت کی درخواست کی جلد سماعت کے لیے الگ درخواست دائر کردی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان کی صحت بگڑ رہی ہے اور جلد سماعت کی درخواست ان کی صحت اور زندگی سے متعلق ہے۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ حکومت نے عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ درخواست میں کہا گیا کہ اگر حکم کے حوالے سے کوئی وضاحت درکار تھی تو متعلقہ عدالت سے رجوع کیا جانا چاہیے تھا۔
ڈاکٹر عظمیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی حکم سے انحراف نہیں کیا جاسکتا اور مزید تاخیر ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے درخواست کی کہ توہینِ عدالت کیس کو رواں ہفتے سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ جب تک عدالت کی جانب سے حکم پر حکمِ امتناع موجود نہ ہو، اس کے نفاذ پر نظرثانی کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔
دوسری جانب حکومت نے بھی سپریم کورٹ میں 18 اگست کے حکم کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کر رکھی ہے اور اس حکم کو امتیازی نوعیت کا قرار دیا ہے۔
21 اگست کو عمران خان کو علی الصبح طبی معائنے کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لے جایا گیا تھا اور ڈاکٹروں کی جانب سے طبی طور پر فٹ قرار دیے جانے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا تھا۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کے اجتماع اور سکیورٹی صورتحال کے باعث عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے سرکاری اسپتال لے جایا گیا۔
ادھر سپریم کورٹ نے پیر کو حکومت کی نظرثانی درخواست اور توہینِ عدالت کی درخواستوں کی فوری سماعت کی استدعا منظور نہیں کی اور درخواستوں کو معمول کے مطابق مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے مزید کہا کہ پارٹی عمران خان کے طبی بورڈ میں ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کی شمولیت چاہتی ہے اور ان کے تمام ضروری طبی ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ بھی کررہی ہے۔
گوہر خان کے مطابق پی ٹی آئی اس وقت سیاسی معاملات کے بجائے عمران خان کی صحت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 10 ماہ سے عمران خان کی ملاقاتیں روک دی گئی ہیں اور اسے انسانی ہمدردی کا بحران قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ صرف بظاہر صحت مند نظر آنا اور ڈاکٹروں کی تجویز کردہ مکمل طبی نگہداشت حاصل کرنا دو الگ معاملات ہیں۔
گوہر خان نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ عمران خان کا علاج نجی اسپتال میں کیوں نہیں ہوسکتا۔ ان کے مطابق ماضی میں دیگر افراد کو نجی اسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم کی جاتی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ عدالت کا حکم جاری ہوجائے تو اس پر اس وقت تک عمل ہونا چاہیے جب تک خود سپریم کورٹ اسے تبدیل یا نظرثانی نہ کرے۔
گوہر خان نے عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو مبینہ طور پر پانچ گھنٹے حراست میں رکھنے پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق ڈاکٹر فیصل شفا انٹرنیشنل اسپتال گئے تھے لیکن عمران خان کو وہاں نہیں لایا گیا، اس لیے ڈاکٹر کو حراست میں رکھنے کی وجہ واضح ہونی چاہیے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ توہینِ عدالت کی درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرے گی اور 18 اگست کے حکم پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائے گی۔
