کینیڈا امریکا کے ساتھ نئے تجارتی مذاکرات کی طرف آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے، مگر راستہ آسان نہیں۔ بظاہر بات چیت کا دروازہ کھلتا دکھائی دے رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ کئی ایسی رکاوٹیں بھی سامنے ہیں جو سیاسی طور پر حساس ہیں، معاشی طور پر اہم ہیں، اور جلد حل ہوتی نظر نہیں آتیں۔
اس ساری صورتِ حال کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اوٹاوا ایک سنجیدہ اور متوازن مذاکراتی عمل چاہتا ہے، جبکہ واشنگٹن سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ کسی بڑی پیش رفت سے پہلے کینیڈا کو کچھ رعایتیں دینی پڑ سکتی ہیں۔ یہی چیز شروع ہی سے ماحول کو غیر متوازن بنا دیتی ہے۔
وزیرِ اعظم مارک کارنی واضح کر چکے ہیں کہ کینیڈا یہ نہیں مانتا کہ امریکا آئندہ کسی معاہدے یا یو ایس ایم سی اے کے متوقع جائزے کی شرائط یکطرفہ طور پر طے کرے۔ یہ مؤقف صرف ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک بڑی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ کینیڈا کو خدشہ ہے کہ مذاکرات ایسی فضا میں شروع ہو سکتے ہیں جہاں دباؤ، محصولات اور سیاسی اثرورسوخ پہلے ہی بطور ہتھیار استعمال ہو رہے ہوں۔
سب سے بڑا مسئلہ یقیناً محصولات کا ہے۔ اگر مذاکرات واقعی آگے بڑھتے ہیں تو امریکا کی جانب سے آٹو، اسٹیل اور ایلومینیم کے شعبوں پر عائد محصولات ایک مرکزی تنازع بنیں گے۔ یہ محض تجارتی شعبے نہیں، بلکہ کینیڈا کی برآمدی معیشت کے بنیادی ستون ہیں۔ ان صنعتوں سے روزگار، علاقائی سیاست اور صنعتی مستقبل جڑا ہوا ہے، اس لیے ان پر کسی بھی دباؤ کا اثر بہت وسیع ہو سکتا ہے۔
پھر ایک گہرا اور پرانا مسئلہ بھی موجود ہے: امریکی منڈی پر کینیڈا کا بہت زیادہ انحصار۔ مارک کارنی نے حالیہ دنوں میں یہ بات خود تسلیم کی کہ جو چیز کبھی کینیڈا کی معاشی طاقت سمجھی جاتی تھی، اب وہی کمزوری بنتی جا رہی ہے۔ یہ ایک اہم اعتراف ہے۔ کینیڈا کو امریکی منڈی کی ضرورت ہے، مگر یہی ضرورت اسے اس وقت کمزور بنا دیتی ہے جب واشنگٹن تحفظاتی پالیسیوں یا یکطرفہ دباؤ کی طرف بڑھتا ہے۔
ایک اور حساس معاملہ سپلائی مینجمنٹ کا ہے، خاص طور پر ڈیری، پولٹری اور انڈوں کے شعبے میں۔ امریکا طویل عرصے سے کینیڈا کے ان حفاظتی نظاموں پر اعتراض کرتا آیا ہے، جبکہ اوٹاوا پہلے ہی عندیہ دے چکا ہے کہ وہ ان شعبوں کا دفاع کرے گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ شعبے کینیڈا کے اندرونی سیاسی منظرنامے میں بے حد اہم ہیں، خاص طور پر ان صوبوں میں جہاں کسان انہیں اپنی معاشی بقا کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ اس لیے یہ معاملہ صرف تجارت کا نہیں، اندرونی سیاست کا بھی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک بڑی حکمتِ عملی کی کشمکش بھی چل رہی ہے۔ کینیڈا ایک طرف یہ کہنا چاہتا ہے کہ وہ اپنی تجارت کو متنوع بنائے گا، نئی سرمایہ کاری لائے گا، صوبوں کے درمیان داخلی تجارتی رکاوٹیں کم کرے گا، اور وقت کے ساتھ امریکا پر انحصار گھٹائے گا۔ کاغذ پر یہ بات بہت مناسب لگتی ہے۔ لیکن عملی دنیا میں یہ کام سست رفتار ہوتا ہے، اور سچ یہ ہے کہ فوری طور پر کوئی دوسرا شراکت دار امریکی منڈی کی جگہ نہیں لے سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اوٹاوا ایک ہی وقت میں دو کام کرنے کی کوشش کر رہا ہے: ایک کم قابلِ اعتماد امریکا کے لیے خود کو تیار کرنا، اور اسی امریکا کے ساتھ کمزور پوزیشن سے مذاکرات بھی کرنا۔
فضا خود بھی ایک مسئلہ ہے۔ یہ کوئی معمول کا تجارتی ماحول نہیں۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات، مارکیٹ تک رسائی پر شکایات، بائے کینیڈین پالیسیوں پر اعتراضات، اور صنعتی حکمتِ عملی سے متعلق اختلافات سامنے آ چکے ہیں۔ رابطے بحال ضرور ہوئے ہیں، مگر اعتماد پوری طرح واپس آیا ہو، ایسا نہیں لگتا۔
یوں کینیڈا ایک بار پھر ایک عجیب اور غیر آرام دہ مقام پر کھڑا ہے۔ بات چیت کے اتنا قریب کہ سفارت کاری ممکن دکھائی دے، مگر یقین سے اتنا دور کہ ہر بڑا معاملہ اب بھی متنازع ہو۔ محصولات، مارکیٹ تک رسائی، اندرونی تحفظاتی نظام، اور امریکی معیشت پر انحصار — یہ سب نکات اب بھی میز پر موجود ہیں۔
کینیڈا واقعی تجارتی مذاکرات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مگر اصل چیلنج صرف مذاکرات تک پہنچنا نہیں، بلکہ وہاں پہنچ کر یہ یقینی بنانا ہے کہ وہ باضابطہ بات چیت شروع ہونے سے پہلے ہی بہت کچھ کھو نہ بیٹھے۔
