پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اکثر سرخیاں بناتا ہے، لیکن اصل معاشی تباہی ڈیزل کے نرخوں میں چھپی ہے۔ پیٹرول کا تعلق محض روزمرہ کی آمدورفت سے ہے، جبکہ ڈیزل عالمی سپلائی چین کی شہ رگ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مرکزی بینکوں کے لیے افراطِ زر کو کنٹرول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔
پیٹرول مہنگا ہو تو گھر کا بجٹ متاثر ہوتا ہے، مگر ڈیزل مہنگا ہو تو دکان پر موجود ہر شے کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔
ڈیزل بھاری ٹرکوں، مال بردار ٹرینوں اور بحری جہازوں کا ایندھن ہے۔ یہ زراعت کا بھی پہیہ ہے جہاں ٹریکٹر اور ہارویسٹر مکمل طور پر اسی پر انحصار کرتے ہیں۔ پیٹرول کے برعکس، جو براہِ راست صارف کی جیب پر اثر ڈالتا ہے، ڈیزل ایک "بزنس ٹو بزنس” لاگت ہے۔ کمپنیاں یہ اضافی بوجھ خود برداشت کرنے کے بجائے اسے مصنوعات کی قیمتوں میں شامل کر دیتی ہیں۔ یہ صرف ایک لیٹر ایندھن کا معاملہ نہیں، بلکہ آٹے کی بوری سے لے کر فریج اور فصلوں کی کٹائی تک ہر عمل کی قیمت کا تعین ہے۔
اس بحران کی جڑیں ریفائنریوں کی صلاحیت میں ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے ریفائنریوں نے ماحولیاتی ضوابط کے پیشِ نظر پیٹرول اور جیٹ فیول کی پیداوار پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔ نتیجے کے طور پر، ڈیزل اور ہیٹنگ آئل کی پیداواری گنجائش محدود ہو گئی ہے۔ عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی جب بھی خام تیل کی سپلائی متاثر کرتی ہے، ڈیزل کا بازار سب سے پہلے جھٹکا محسوس کرتا ہے۔
عالمی ذخائر بدستور کم سطح پر ہیں۔ معیشت سست پڑ جائے تب بھی مال برداری کی طلب کم نہیں ہوتی کیونکہ جو مال پائپ لائن میں موجود ہے، اسے منزل تک پہنچنا ہی ہے۔ پیٹرول کی طلب صارفین کے مزاج کے ساتھ گھٹتی بڑھتی ہے، لیکن ڈیزل کی طلب میں لچک نہ ہونے کے برابر ہے۔
توانائی کے تجزیہ کاروں کے نزدیک ‘ڈیزل کریک سپریڈ’ — یعنی خام تیل اور ریفائن شدہ مصنوعات کی قیمتوں کا فرق معاشی صحت کا اصل پیمانہ ہے۔ جب یہ فرق بڑھتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ بازار اس ایندھن کے لیے بھاری قیمت ادا کرنے پر مجبور ہے جو نظام کو چلائے رکھتا ہے۔
