کراچی: پاکستان محکمہ موسمیات کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں گرمی کی شدت بڑھ سکتی ہے، جبکہ ال نینو کی صورتحال موسمِ گرما کے دوران بننے اور اگست کے آخر یا ستمبر تک ممکنہ طور پر “سپر ال نینو” کی شکل اختیار کرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں سندھ کے بیشتر علاقوں کے لیے گرم اور خشک موسم کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ کراچی میں بھی درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان بتایا گیا ہے۔
یہ انتباہ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ ال نینو صرف درجہ حرارت بڑھانے کا معاملہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے اثرات مون سون، زراعت، پانی کی دستیابی اور بجلی کی طلب تک پھیل سکتے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پی ایم ڈی کے ترجمان انجم نذیر ضیغم نے کہا کہ اگر یہ موسمی پیٹرن شدت اختیار کرتا ہے تو برصغیر میں مون سون بارشیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں موسم اور معیشت کا تعلق بہت گہرا ہے، ایسی پیش گوئیاں محض موسمی خبر نہیں رہتیں۔
البتہ یہاں ایک اہم احتیاط بھی ضروری ہے۔ اس وقت بین الاقوامی موسمی ادارے یہ نہیں کہہ رہے کہ اگست تک “سپر ال نینو” یقینی طور پر آ جائے گا۔ امریکی ادارے NOAA کے کلائمیٹ پریڈکشن سینٹر کے مطابق اس وقت ENSO-neutral حالات موجود ہیں اور اپریل تا جون 2026 تک انہی حالات کے برقرار رہنے کا امکان زیادہ ہے، تاہم اس کے بعد ال نینو بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
عالمی موسمیاتی ادارہ WMO بھی تقریباً یہی بات کر رہا ہے۔ اس کی تازہ اپڈیٹ میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی مہینوں میں غیر جانبدار موسمی حالات غالب رہ سکتے ہیں، مگر سال کے دوسرے حصے میں ال نینو کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ یعنی خطرے کی سمت واضح ہو رہی ہے، مگر شدت اور درست وقت کے بارے میں ابھی کچھ غیر یقینی باقی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اکثر سنسنی خیز سرخیوں میں پیچھے رہ جاتا ہے۔
کراچی کے لیے فوری مسئلہ مگر بالکل سادہ ہے: گرمی۔ ساحلی شہر ہونے کے باعث یہاں صرف درجہ حرارت ہی مسئلہ نہیں بنتا، فضا میں نمی بھی گرمی کو زیادہ بوجھل اور تھکا دینے والی بنا دیتی ہے۔ محکمہ موسمیات سے منسلک پیش گوئیوں کے مطابق سندھ میں گرم اور خشک موسم برقرار رہ سکتا ہے، اور اگر بحرالکاہل میں حدت کا یہ رجحان مزید مضبوط ہوا تو آنے والے مہینوں میں حالات مزید سخت ہو سکتے ہیں۔
اس پوری صورت حال کا خلاصہ یہی ہے کہ پی ایم ڈی نے ایک سنجیدہ ابتدائی وارننگ دی ہے۔ اسے حتمی فیصلہ نہیں، بلکہ پیشگی انتباہ سمجھنا چاہیے۔ کراچی اور سندھ کے عوام کے لیے اس کا مطلب ہے کہ شدید گرمی، ممکنہ لو اور پانی و بجلی کے دباؤ جیسے مسائل کے لیے ابھی سے ذہنی اور انتظامی تیاری شروع کر دی جائے، جبکہ مون سون سے متعلق آئندہ اپڈیٹس پر بھی گہری نظر رکھی جائے۔
