سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہو رہے ہیں اور کل شام تک وہاں پہنچ جائیں گے، جس سے نئی سفارتی پیش رفت کا اشارہ ملتا ہے۔
ٹرمپ کے بیان کے مطابق یہ دورہ ممکنہ طور پر خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ہو رہا ہے، اگرچہ مذاکرات کے ایجنڈے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ تاہم اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ بات چیت میں جنگ بندی، علاقائی استحکام اور سفارتی تعاون جیسے امور شامل ہو سکتے ہیں۔
اسلام آباد حالیہ دنوں میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے ثالثی کردار ادا کرتا رہا ہے، اور امریکی وفد کی آمد اس عمل کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
ابھی تک دونوں ممالک کی جانب سے وفد کی مکمل تفصیلات یا ملاقاتوں کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم ایسے دوروں میں عموماً پاکستانی قیادت، وزارتِ خارجہ اور سیکیورٹی حکام سے ملاقاتیں شامل ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان خطے میں ایک اہم سفارتی پل کے طور پر اپنا کردار برقرار رکھے ہوئے ہے۔
