فرانس میں ہنٹا وائرس کے کیسز میں اچانک اضافے کے بعد طبی حکام نے 11 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ متاثرین میں سے ایک مریض کی حالت تشویشناک ہے، جس نے ملک کے مشرقی دیہی علاقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
یہ وائرس عام طور پر چوہوں کے فضلے سے رابطے یا آلودہ دھول سانس کے ذریعے اندر لے جانے سے پھیلتا ہے۔ موسم سرما میں غیر معمولی حد تک نرمی کے باعث چوہوں کی آبادی میں اضافے نے اس وائرس کے پھیلاؤ کی راہ ہموار کی ہے۔ حکام نے اب متاثرہ علاقوں میں ہنگامی نگرانی شروع کر دی ہے۔
علاقائی متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر مارک لیفے برے نے خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس معمولی موسمی نزلہ زکام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”جس مریض کی حالت نازک ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بروقت طبی مداخلت کے بغیر اس وائرس کے نتائج جان لیوا ہو سکتے ہیں۔“
اس وائرس کی علامات میں تیز بخار، پٹھوں میں درد اور شدید تھکاوٹ شامل ہیں، جو عام فلو سے ملتی جلتی ہیں۔ تاہم، وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار اتنی تیز ہے کہ مریض کی حالت 72 گھنٹوں کے اندر اندر بگڑ سکتی ہے، جس کے بعد فوری ہسپتال منتقلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
مقامی محکمہ صحت نے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پرانی عمارتوں، گوداموں یا بند پڑے کمروں کی صفائی کے دوران خصوصی احتیاط برتیں۔ صفائی کے وقت ماسک اور دستانوں کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے، تاکہ خشک فضلے سے اٹھنے والی گرد سے بچا جا سکے۔
ہنٹا وائرس کا تاحال کوئی ویکسین موجود نہیں ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق، بیماری کی شدت سے بچنے کا واحد حل ابتدائی علامات ظاہر ہوتے ہی فوری طبی امداد حاصل کرنا ہے۔ تحقیقاتی ٹیمیں اب بھی وائرس کے مرکز کا تعین کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں کیسز کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
