ریاض — سعودی وزارتِ انسانی وسائل و سماجی بہبود نے مملکت میں کام کرنے والے تمام ملازمین کے لیے ‘میڈیکل فٹنس’ اور غیر متعدی بیماریوں کی سکریننگ کے لازمی ٹیسٹ کرانے کے نئے قوانین جاری کر دیے ہیں۔ اس پروگرام کا نفاذ مختلف مراحل میں سرکاری، نجی اور فلاحی (نان پرافٹ) سمیت تمام شعبوں پر ہوگا۔
وزارت کی جانب سے جاری کردہ گائیڈ لائنز کے مطابق، اس ہیلتھ پروگرام کو تین بنیادی مراحل میں لاگو کیا جائے گا تاکہ ملک بھر میں ملازمین کی صحت اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جا سکے:
-
پہلا مرحلہ (پہلے 6 ماہ): اس مرحلے کے تحت نئے بھرتی ہونے والے تمام ملازمین کے لیے ملازمت شروع کرنے سے قبل میڈیکل ٹیسٹ پاس کرنا لازمی ہوگا۔ کسی بھی نئے ملازم کو اس وقت تک کام شروع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جب تک اس کی رپورٹ کی تصدیق کسی ماہرِ صحت (آکیوپیشنل ہیلتھ اسپیشلسٹ) سے نہ ہو جائے۔ اداروں کو یہ رپورٹس حکومت کے منظور شدہ الیکٹرانک سسٹم پر اپ لوڈ کرنی ہوں گی۔
-
دوسرا مرحلہ (اگلے 12 ماہ): اس بارہ ماہ کے عرصے میں سکریننگ کے دائرہ کار کو پہلے سے موجود پرانے ملازمین تک بڑھایا جائے گا۔ اس مرحلے میں ان کاروباری اداروں اور فیکٹریوں کو ترجیح دی جائے گی جہاں کام کی نوعیت زیادہ خطرناک یا حساس ہے۔
-
تیسرا اور آخری مرحلہ: اس مرحلے پر پہنچ کر یہ قانون تمام اقتصادی شعبوں پر مکمل طور پر لاگو ہو جائے گا۔ اس کے تحت مستقل، عارضی، سیزنل (موسمی) ورکرز، ریموٹ (گھر بیٹھے کام کرنے والے) ملازمین، انٹرنز اور معذور افراد سمیت تمام ملازمین، خواہ ان کا کنٹریکٹ کسی بھی نوعیت کا ہو، اس میڈیکل سکریننگ کے پابند ہوں گے۔
نئے قوانین کے تحت جو ملازمین مطلوبہ طبی معیار (ہیلتھ فٹنس) پر پورا نہیں اتریں گے، انہیں ان کے موجودہ عہدوں پر کام جاری رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ایسے حالات میں آجر (کمپنی یا ادارے) کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ متعلقہ ملازم کی صحت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسے کسی دوسرے متبادل شعبے یا سیٹ پر منتقل کرے، جبکہ اس کی کام کرنے کی صلاحیت کا اندازہ لگانے کے لیے اضافی طبی معائنے بھی کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دورانِ ملازمت کسی حادثے، پیشہ ورانہ بیماری، یا ڈیوٹی کی نوعیت تبدیل ہونے کی صورت میں بھی دوبارہ میڈیکل ٹیسٹ کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
