مونگ پھلی سے شدید الرجی کے شکار افراد کے لیے ایک نئی طبی تحقیق امید کی کرن بن کر سامنے آئی ہے۔ ‘نیچر میڈیسن’ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، معدے میں مخصوص بیکٹیریا کی بحالی مدافعتی نظام کو دوبارہ ترتیب دے سکتی ہے، جس سے مریضوں کے لیے مونگ پھلی کا استعمال جان لیوا ثابت ہونے کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔
یہ علاج خاص طور پر ‘کلاسٹر ڈیلس’ اور ‘بیکٹیروئیڈیز’ نامی بیکٹیریا کے ایک مجموعے پر مرکوز ہے۔ یہ وہی مفید جراثیم ہیں جو الرجی کے شکار افراد کے معدے میں اکثر کم پائے جاتے ہیں۔ ان بیکٹیریا کو دوبارہ متعارف کروا کر محققین نے یہ دیکھا کہ جسم کے مدافعتی سیلز اس سوزش کو روکنے میں کامیاب رہے جو عام طور پر مونگ پھلی کے پروٹین سے ٹکرانے پر پیدا ہوتی ہے۔
ان لاکھوں افراد کے لیے جو ہر وقت شدید الرجی کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں، یہ پیش رفت اہم ہے۔ موجودہ علاج، جسے ‘اورل امیونو تھراپی’ کہا جاتا ہے، میں مریض کو بہت کم مقدار میں الرجی پیدا کرنے والی چیزیں کھلائی جاتی ہیں تاکہ جسم عادی ہو سکے۔ یہ ایک تھکا دینے والا اور پرخطر عمل ہے۔ اس کے برعکس، یہ نیا طریقہ کار علامات کو دبانے کے بجائے مدافعتی نظام کی خرابی کو جڑ سے ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
تحقیقی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر کیتھرین نیگلر کا کہنا ہے کہ انسانی معدے کا مائکروبائیوم مدافعتی نظام کے لیے ایک ‘پہریدار’ کا کام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، "جب یہ پہرہ کمزور پڑ جائے تو جسم خوراک کے معمولی پروٹین کو بھی خطرناک دشمن سمجھ کر حملہ کر دیتا ہے۔” ان کی ابتدائی کلینیکل ٹرائلز سے ثابت ہوا کہ جن مریضوں کو یہ بیکٹیریل تھراپی دی گئی، ان میں الرجی برداشت کرنے کی صلاحیت علاج ختم ہونے کے کافی عرصے بعد تک برقرار رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق، تجربے میں شامل افراد کے معدے کے ماحول میں واضح تبدیلی دیکھی گئی۔ جو مریض اس علاج پر بہتر ردعمل ظاہر کر رہے تھے، ان کے جسم میں ‘بیوٹائریٹ’ نامی فیٹی ایسڈ کی پیداوار میں اضافہ ہوا، جو آنتوں کی دیوار کو مضبوط رکھتا ہے اور الرجی پیدا کرنے والے اجزاء کو خون میں شامل ہونے سے روکتا ہے۔
تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ اسے روایتی معنوں میں مکمل ‘علاج’ قرار دینا قبل از وقت ہے۔ اس تھراپی کے لیے درست مقدار کی فراہمی اور طویل مدتی نگرانی ضروری ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ متعارف کرائے گئے بیکٹیریا معدے میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، دوا ساز کمپنیوں کے لیے ان زندہ بیکٹیریا کا ایک معیاری ‘کاک ٹیل’ تیار کرنا اور اسے مریضوں تک محفوظ حالت میں پہنچانا ایک بڑا تکنیکی چیلنج ہے۔
ان مشکلات کے باوجود، طبی حلقے اس تحقیق کو باریکی سے دیکھ رہے ہیں۔ اگر یہ طریقہ کار بڑے پیمانے پر ہونے والے تیسرے مرحلے کے تجربات میں کامیاب رہتا ہے، تو یہ نہ صرف مونگ پھلی بلکہ دیگر کئی غذائی الرجیوں کے علاج کے انداز کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔
فی الحال محققین اس بیکٹیریل مرکب کو مزید بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ وہ یہ دعویٰ تو نہیں کر رہے کہ کل سے ہر الرجی کا مریض مونگ پھلی بے خوف ہو کر کھا سکے گا، لیکن انہوں نے یہ ٹھوس ثبوت فراہم کر دیا ہے کہ الرجی کا خاتمہ صرف پرہیز میں نہیں، بلکہ معدے کے اندرونی نظام کو درست کرنے میں پوشیدہ ہے۔
