برازیلیا — برازیل کی حکومت نے امریکی قانون سازوں کے ایک وفد کو ملک کے الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم تک رسائی دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ریپبلکن ارکان پر مشتمل یہ وفد برازیل کے حالیہ صدارتی انتخابات میں استعمال ہونے والے انفراسٹرکچر کا "آزادانہ آڈٹ” کرنا چاہتا تھا۔
برازیل کی وزارت خارجہ نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری اور الیکٹورل کورٹ (TSE) کے فیصلوں میں مداخلت قرار دیا ہے۔ یہ اقدام برازیل کے انتخابی اداروں اور امریکی سیاست کے ایک مخصوص حلقے کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔
وفد کا یہ دورہ 2022 کے صدارتی انتخابات کے نتائج پر اٹھائے گئے ان سوالات کا تسلسل ہے جنہیں برازیل کے حکام اور عدلیہ پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ وفد کے اراکین کا موقف تھا کہ خطے میں جمہوری استحکام کے لیے یہ جانچ ضروری ہے، لیکن برازیلی حکام نے اسے ان سازشی نظریات کو ہوا دینے کی کوشش قرار دیا جو ماضی میں دارالحکومت میں ہنگاموں کا سبب بن چکے ہیں۔
برازیل حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم غیر ملکی سیاسی تجربات کی تجربہ گاہ نہیں ہیں۔ ہمارے سسٹم کی جانچ ملکی ماہرین اور بین الاقوامی مبصرین کر چکے ہیں۔ ہم کسی غیر ملکی قانون ساز کو جوابدہ نہیں ہیں۔”
برازیل کی الیکٹورل کورٹ کا موقف ہے کہ 1996 میں متعارف کرایا گیا الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم مکمل طور پر محفوظ ہے اور اسے ہیک کرنا ممکن نہیں۔ برازیل میں اس نظام کے تحت ووٹوں کی گنتی کا عمل روایتی طریقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز اور شفاف رہا ہے۔
برازیلیا میں امریکی سفارت خانے نے وفد کے دورے کے حوالے سے کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا اور اسے نجی نوعیت کا معاملہ قرار دیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس دورے کا مقصد تکنیکی خرابیوں کی نشاندہی سے زیادہ امریکی سیاست میں اپنے بیانیے کو مضبوط کرنا تھا۔
اس انکار کے ذریعے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈی سلوا کی حکومت نے عالمی برادری پر واضح کر دیا ہے کہ وہ ملکی معاملات میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت برداشت نہیں کرے گی۔ فی الحال برازیل کے انتخابی نظام پر بحث ایک اندرونی معاملہ ہی رہے گی، اور برازیلیا اسے اسی دائرے تک محدود رکھنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔
