جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے مہلک وائرس نے ایک اور سنگین حد عبور کر لی ہے، جہاں ہلاکتوں کی تعداد 1300 سے بڑھ گئی ہے۔ شمالی کیوو اور اتوری کے صوبوں میں وائرس کی رفتار نے مقامی کلینکس کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور بین الاقوامی امدادی ٹیموں کے لیے صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔
یہ محض اعداد و شمار کا اضافہ نہیں، بلکہ حکومتی سطح پر حفاظتی اقدامات کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وائرس گنجان آباد علاقوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے جہاں صحت کے حکام پر عوامی اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ لوگ اپنے بیمار پیاروں کو ہسپتال بھیجنے کے بجائے گھروں میں چھپا رہے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ آئسولیشن یونٹس ان کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوں گے۔
صحت کے کارکن اب کھلی دشمنی کے ماحول میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ صرف گزشتہ ہفتے کے دوران، علاقے میں تین مختلف مراکزِ صحت پر مسلح گروہوں نے حملے کیے، جس کے بعد امدادی ایجنسیوں نے اہم ہاٹ سپاٹ علاقوں میں اپنی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔ جب حفاظتی لباس پہنے طبی عملہ وہاں پہنچتا ہے تو مریضوں کے بجائے انہیں پتھراؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
فیلڈ میں موجود ایک ماہرِ وبائیات کا کہنا ہے کہ "ہم ایک ایسے دشمن سے لڑ رہے ہیں جو دکھائی نہیں دیتا۔ آپ ایک مریض کے رابطے تلاش کرتے ہیں، وائرس کے پھیلاؤ کا سراغ لگاتے ہیں، اور پھر اچانک پورا گاؤں جھاڑیوں میں غائب ہو جاتا ہے۔ جب تک ہم انہیں ڈھونڈتے ہیں، وائرس اگلے ٹھکانے تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔”
اعداد و شمار تشویشناک ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ اگست سے اب تک 2000 سے زائد کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اموات کی شرح 65 فیصد کے قریب ہے، جس کا مطلب ہے کہ موجودہ لہر کے تھمنے سے پہلے ہلاکتوں کی تعداد میں مزید نمایاں اضافہ ہوگا۔
سیکیورٹی کی خراب صورتحال نے ویکسی نیشن مہم کو عملی طور پر ناکام بنا دیا ہے۔ اگرچہ ‘آر وی ایس وی-زیبوو’ ویکسین کنٹرولڈ حالات میں انتہائی موثر ثابت ہوئی ہے، لیکن اس کے لیے ایک مستحکم سپلائی چین درکار ہے جو اس تنازعہ زدہ خطے میں موجود ہی نہیں۔ ویکسین کی بڑی مقدار گوما کے گوداموں میں پڑی ہے اور اسے محفوظ راستے کا انتظار ہے، جس کے ملنے کے امکانات فی الحال معدوم ہیں۔
اس خطے کے مکینوں کو دوہرے خطرے کا سامنا ہے: ایک نظر نہ آنے والا وائرس اور دوسری دکھائی دینے والی بندوق۔ جب تک سیاسی عدم استحکام طبی رسائی میں رکاوٹ بنا رہے گا، ہلاکتوں کی تعداد سائنسی ٹولز کی کمی کے بجائے ایک ٹوٹے ہوئے نظام کی ناکامی کا عکاس رہے گی۔
عالمی عطیہ دہندگان کروڑوں ڈالر دینے کا وعدہ کر چکے ہیں، لیکن رقم سے امن نہیں خریدا جا سکتا۔ جب تک طبی عملہ مسلح محافظوں کے بغیر نقل و حرکت نہیں کر سکے گا اور مریض خوف کے بغیر علاج کے لیے نہیں نکلیں گے، وائرس اپنا راستہ بناتا رہے گا۔
