اسلام آباد کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے استعمال ہونے والا فائر بریگیڈ کا بیڑہ اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے زیر انتظام زیادہ تر گاڑیاں 20 سال سے زائد پرانی ہیں، جس سے وفاقی دارالحکومت کا حفاظتی نظام شدید خطرات کی زد میں ہے۔
شہر کی آبادی میں اضافے اور بلند و بالا عمارتوں کے پھیلاؤ کے باوجود فائرفائٹنگ کا نظام دو دہائی قبل کے دور میں کھڑا ہے۔ پرانی گاڑیاں تکنیکی خرابیوں کا شکار رہتی ہیں، جس کے باعث ہنگامی کال موصول ہونے پر موقع پر پہنچنے میں غیر معمولی تاخیر ہوتی ہے۔ کئی گاڑیوں کے پمپ اور انجن اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔
محکمہ فائر بریگیڈ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم جدید دور کی آگ بجھانے کے لیے نوے کی دہائی کے آلات استعمال کر رہے ہیں۔ جب آگ لگتی ہے تو سب سے بڑی جنگ گاڑی کو سٹارٹ کرنے اور اس کے پریشر پمپس کو فعال رکھنے کی ہوتی ہے۔”
حقیقت یہ ہے کہ شہر کی ضروریات بدل چکی ہیں، لیکن وسائل وہی پرانے ہیں۔ پرانی گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس مارکیٹ میں دستیاب نہیں، جس کی وجہ سے معمولی خرابی پر بھی گاڑیاں ہفتوں ورکشاپ میں کھڑی رہتی ہیں۔ سی ڈی اے کی جانب سے بارہا فلیٹ کی اپ گریڈیشن کے دعوے کیے گئے، مگر بجٹ کی ترجیحات میں ہنگامی خدمات ہمیشہ پسِ پشت رہیں۔
فائر بریگیڈ کے ماہرین کے مطابق، بلند و بالا عمارتوں میں لگنے والی آگ بجھانے کے لیے جدید ہائیڈرولک لیڈرز اور جدید آلات ناگزیر ہیں، جو اس وقت اسلام آباد کے پاس موجود نہیں۔ پرانے آلات نہ صرف عملے کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ آگ بجھانے کے عمل کے دوران قیمتی وقت ضائع ہونے سے جانی و مالی نقصان کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
اسلام آباد جیسے شہر میں، جہاں آبادی کا دباؤ بڑھ رہا ہے، ہنگامی خدمات کا یہ خستہ حال نظام کسی بڑے المیے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ جب تک سی ڈی اے اپنی ترجیحات میں تبدیلی لا کر اس بیڑے کو جدید خطوط پر استوار نہیں کرتا، تب تک شہر کے محافظ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر پرانی اور ناکارہ گاڑیوں کے سہارے ہی فرائض سرانجام دینے پر مجبور رہیں گے۔
