متحدہ عرب امارات ایران سے جاری جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کر رہا ہے، جس سے خطے میں سفارتی اور سلامتی کی صف بندیوں میں تبدیلی نمایاں ہو رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات کو اس تنازع کے دوران ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا رہا، جس کے بعد ابوظہبی کا امریکا کے ساتھ دفاعی تعاون مزید اہم ہو گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اماراتی حکام سمجھتے ہیں کہ موجودہ بحران نے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے، جبکہ اسرائیل کے ساتھ تعاون بھی ابراہیمی معاہدوں کے تحت بڑھا ہے۔
یہ پیش رفت خلیجی سیاست میں وسیع تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ممالک سلامتی خدشات، ایران سے تعلقات اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ روابط میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امارات نے بعض دیگر خلیجی ممالک کے مقابلے میں زیادہ واضح مؤقف اختیار کیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب اس کی سرزمین اور توانائی تنصیبات پر حملوں نے علاقائی استحکام سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس جنگ نے ابوظہبی کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دفاعی اور سفارتی رابطے بڑھانے پر مجبور کیا ہے۔ تاہم یہ پالیسی خلیجی ممالک کے اندر اختلافات کو بھی گہرا کر سکتی ہے، خاص طور پر ان ممالک کے ساتھ جو ایران کے معاملے پر محتاط حکمتِ عملی چاہتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود اسرائیل سے تعلقات ختم نہیں کیے، اور موجودہ بحران نے بظاہر اس کی اسٹریٹجک سوچ کو مزید مضبوط کیا ہے۔
