پشاور — خیبر پختونخوا میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مون سون کی شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال نے 14 زندگیاں نگل لیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔
جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ہلاکتوں کی بڑی وجہ مکانات کی چھتیں گرنے اور ندی نالوں میں طغیانی ہے۔ لوئر دیر، سوات اور چترال کے اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جہاں موسلا دھار بارشوں نے خشک ندیوں کو سیلابی ریلوں میں بدل دیا، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں رہائشی پھنس کر رہ گئے۔
پی ڈی ایم اے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق کم از کم 15 مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم رابطہ سڑکیں بند ہیں، جس کی وجہ سے دور دراز کے کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے اور امدادی ٹیموں کو پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقے میں موجود پی ڈی ایم اے کے ایک فیلڈ افسر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہماری ٹیمیں محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ ہماری اولین ترجیح گرنے والے مکانات کے ملبے تبی دبے افراد کو نکالنا ہے، لیکن مسلسل بارش بھاری مشینری کی نقل و حرکت میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔”
صوبائی حکومت نے اگلے 72 گھنٹوں کے لیے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے مزید بادل برسنے کی پیشگوئی کی ہے، جس کے بعد دریائے کابل اور دریائے سوات میں سیلابی صورتحال کے مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
متاثرہ اضلاع کے مکینوں کے لیے اس وقت بقا کی جنگ جاری ہے۔ زیادہ تر متاثرین منگل کی رات اچانک شروع ہونے والی بارشوں کی وجہ سے محفوظ مقامات پر منتقل نہ ہو سکے۔ اگرچہ حکومت نے ہنگامی امدادی فنڈز جاری کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم لوئر دیر جیسے علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ امداد کی فراہمی میں تاخیر ہو رہی ہے۔
صوبے میں مون سون کا موسم روایتی طور پر ہنگامہ خیز رہا ہے، تاہم موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں شدید موسمی واقعات کی تعداد میں اضافہ تشویشناک ہے۔ شمالی میدانی علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری ہے اور خدشہ ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے دوران ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
