ملک بھر کے دیہی علاقوں میں کسان ایک نئے بحران سے نبردآزما ہیں۔ منظم جرائم پیشہ گروہ رات کی تاریکی میں نجی زمینوں میں گھس کر نہ صرف فصلوں کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ خاردار باڑیں اور آہنی گیٹ توڑ کر دیہی معیشت کو کروڑوں کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ان گروہوں کا مقصد خرگوشوں کا غیر قانونی شکار ہے، جسے ‘ہیئر کورسنگ’ کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ طاقتور فور بائی فور گاڑیوں کے ذریعے کھیتوں میں داخل ہوتے ہیں، جس سے گندم اور دیگر فصلیں پیروں تلے کچلی جاتی ہیں۔ کسانوں کے لیے یہ صرف مالی نقصان نہیں، بلکہ جان و مال کا خوف بھی ہے۔
لنکاشائر کے ایک کسان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "میں نے رات کے تین بجے انہیں کھیت میں دیکھا۔ انہوں نے گاڑی نہیں بھگائی، بلکہ اپنی ٹرک کو سامنے لا کر مجھے دھمکایا۔ مجھے اپنی فصل اور زندگی میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑا۔”
یہ گروہ کھیتوں کو اپنا ذاتی میدانِ جنگ سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے شکاری کتے (لچر اور گرے ہاؤنڈ) چھوڑ دیتے ہیں اور اس خونریز کھیل پر سٹے بازی کرتے ہیں۔ جو کسر گاڑیوں کے پہیوں سے رہ جاتی ہے، وہ کھیتوں کے گیٹ توڑ کر پوری کر دی جاتی ہے۔
مقامی پولیس کے لیے ان گروہوں کا پیچھا کرنا ایک چیلنج ہے۔ دیہی علاقوں کی وسیع اور ویران حدود میں پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی یہ ملزمان مرکزی سڑکوں پر فرار ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ کچھ علاقوں میں اس غیر قانونی شکار کو روکنے کے لیے خصوصی ٹاسک فورسز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، مگر دیہی مکینوں کا ماننا ہے کہ پولیس کا ردعمل بہت سست اور ناکافی ہے۔
اس صورتحال نے کسانوں کو اضافی اخراجات پر مجبور کر دیا ہے۔ اب انہیں اپنی زمینوں کو محفوظ بنانے کے لیے بھاری سٹیل کے گیٹ، مٹی کے پشتے اور جدید نگرانی کے کیمرے نصب کرنا پڑ رہے ہیں۔ یہ اخراجات پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسے کسانوں کے منافع کو مزید ختم کر رہے ہیں۔
نیشنل فارمرز یونین کے ایک نمائندے کا کہنا ہے کہ، "یہ صرف خرگوش کے شکار کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ تحفظ کے مکمل فقدان کی عکاسی ہے۔ جب آپ اپنے ہی کھیتوں میں مسلح گروہوں کے خوف کے بغیر نہیں چل سکتے، تو دیہی علاقہ کام کی جگہ کے بجائے محاذِ جنگ بن جاتا ہے۔”
شکار کا سیزن عروج پر ہے اور کسانوں کا مطالبہ ہے کہ غیر قانونی شکاریوں اور ان کی گاڑیوں کو ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ سزاؤں میں سختی کی جائے۔ جب تک قانون سازی میں یہ خلا موجود ہے، زرعی زمینیں ان جرائم پیشہ گروہوں کی دستبرد سے محفوظ نہیں۔
