لاہور — پنجاب اسمبلی نے منگل کے روز انسدادِ دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026 منظور کر لیا، جس کے تحت صوبائی پولیس کو مشتبہ افراد کی گرفتاری اور اثاثے ضبط کرنے کے وسیع تر اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج اور ایوان سے واک آؤٹ کے باوجود حکومتی بینچوں نے بل کو بھاری اکثریت سے پاس کرا لیا۔
نئے قانون کے تحت پولیس کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کو 60 دن تک حراست میں رکھ سکے جسے وہ "امن عامہ کے لیے خطرہ” قرار دے۔ اس سے قبل، کسی بھی مشتبہ شخص کی گرفتاری کے بعد 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیشی لازمی تھی، تاہم اس ترمیم نے ابتدائی مراحل میں عدالتی عمل دخل کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔
صوبائی وزیر قانون نے ایوان میں بل پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ یہ اقدام سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر تھا۔ ان کا کہنا تھا، "ہم قانون کا غلط استعمال نہیں کر رہے، بلکہ ان قانونی خلا کو پُر کر رہے ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر دہشت گرد فرار ہو جاتے ہیں۔ ریاست کے تحفظ کے لیے پولیس کو فوری ایکشن لینے کے اختیارات درکار ہیں۔”
دوسری جانب قانونی ماہرین اس قانون کی شقوں کو مبہم قرار دے رہے ہیں۔ ہائی کورٹ کے ایک سینئر وکیل نے کہا کہ "امن عامہ” کی تعریف اتنی وسیع رکھی گئی ہے کہ اس کا استعمال سیاسی مخالفین یا پرامن مظاہرین کے خلاف کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، یہ بل پولیس کو جج اور جلاد دونوں بنا دیتا ہے، جس سے عدالتی چیک اینڈ بیلنس کا نظام کمزور پڑ جائے گا۔
بل کے تحت صوبائی حکومت کو کسی بھی مشتبہ فرد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور جائیداد ضبط کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا، جس کے لیے کسی پیشگی عدالتی حکم کی ضرورت نہیں ہوگی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے ضروری ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے غلط طور پر نشانہ بننے والوں کے لیے فوری اپیل کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا گیا۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ عدالتی نگرانی کو ختم نہیں کیا گیا بلکہ اسے مؤخر کیا گیا ہے، اور متاثرہ افراد بعد میں عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ تاہم اپوزیشن ارکان نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے اسے آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اسمبلی اجلاس کے اختتام پر اپوزیشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ نئے اختیارات واقعی دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو توڑنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پھر صوبے کی سیاسی فضا میں مزید کشیدگی کا باعث بنتے ہیں۔
