کراچی — فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور مقامی پولیس نے منگل کی شب سائٹ ایریا میں ایک خفیہ آپریشن کے دوران غیر قانونی سگریٹ بنانے والی بڑی فیکٹری کو سیل کر دیا۔ کارروائی کے دوران کروڑوں روپے مالیت کی جعلی سگریٹیں، بغیر ٹیکس والی تمباکو کی کھیپ اور جدید مشینری قبضے میں لے لی گئی۔
یہ فیکٹری ایک عام گودام کے پیچھے چھپ کر کام کر رہی تھی، جہاں تین ہائی اسپیڈ پروڈکشن لائنز کے ذریعے دن رات سگریٹ تیار کی جا رہی تھی۔ حکام کے مطابق، فیکٹری انتظامیہ جعلی ٹیکس اسٹامپ لگا کر سگریٹ کو مارکیٹ میں اصلی برانڈز کے نام سے فروخت کر رہی تھی۔
چھاپے کی قیادت کرنے والے ایف بی آر کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ "ہم گزشتہ کئی ہفتوں سے اس نیٹ ورک کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ یہ کوئی چھوٹی سطح کا کام نہیں تھا، بلکہ ایک منظم مافیا تھا جو قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہا تھا۔”
یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حکومت ٹیکس چوری روکنے کے لیے ملک بھر میں کریک ڈاؤن تیز کر رہی ہے۔ سگریٹ سازی کا غیر قانونی شعبہ طویل عرصے سے ایف بی آر کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے، کیونکہ اسمگل شدہ اور غیر قانونی سگریٹ کی فروخت سے حکومت کو ہر سال اربوں روپے کے ریونیو کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
فیکٹری کے اندر کی صورتحال انتہائی تشویشناک تھی۔ جدید مشینوں کے برعکس، مزدوروں کے کام کرنے کی جگہ انتہائی تنگ اور غیر محفوظ تھی۔ چھاپے کے دوران فیکٹری مینیجر کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم حکام کا ماننا ہے کہ وہ صرف ایک مہرہ ہے۔ اصل ماسٹر مائنڈز تک پہنچنے کے لیے سپلائی چین کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔
ایف بی آر نے فیکٹری کو مکمل طور پر سیل کر کے تمام ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے۔ تفتیشی ٹیمیں اب یہ دیکھ رہی ہیں کہ یہ سگریٹ سندھ اور بلوچستان کے کن کن ریٹیل آؤٹ لیٹس تک پہنچائی جا رہی تھیں۔
شہر کے صنعتی زون میں اس طرح کی ‘گھوسٹ فیکٹریوں’ کا انکشاف حکومتی رٹ پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ چھاپہ محض ایک کارروائی تک محدود رہے گا یا حکومت اس پورے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں کامیاب ہو گی۔
