ٹریفک پولیس نے غلط ای-چالان کے شکار شہریوں کے لیے آن لائن شکایات کا پورٹل فعال کر دیا ہے۔ اب ڈرائیورز کو غلط جرمانوں کے خاتمے کے لیے ٹریفک دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔
نیا نظام روایتی دفتری کارروائی کے بجائے ڈیجیٹل طریقہ کار پر مبنی ہے۔ پہلے غلط چالان بھگتنے کے لیے گھنٹوں قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا تھا، لیکن اب یہ سارا عمل گھر بیٹھے ایک کلک کی دوری پر ہے۔
شہریوں کو پورٹل پر چالان نمبر کے ساتھ ٹھوس ثبوت اپ لوڈ کرنا ہوں گے۔ مثال کے طور پر اگر گاڑی کسی اور جگہ موجود تھی، تو اس کا فوٹو گرافی یا ڈیش کیم فوٹیج کے ذریعے ثبوت فراہم کرنا لازمی ہے۔ حکام کے مطابق، شکایات پر پانچ سے سات کاروباری دنوں کے اندر جواب دیا جائے گا۔
یہ اقدام خودکار کیمروں کی تکنیکی خرابیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ اکثر اوقات نمبر پلیٹ دھندلی ہونے یا سافٹ ویئر کی غلطی کی وجہ سے سسٹم کسی اور گاڑی کا چالان اصل مالک کو بھیج دیتا ہے۔
ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان نے بتایا، "ہمیں معلوم ہے کہ غلط جرمانوں سے شہریوں کو کتنی کوفت ہوتی ہے۔ یہ پورٹل صرف سہولت کے لیے نہیں، بلکہ خودکار نظام میں شفافیت لانے کے لیے بنایا گیا ہے۔”
قانون کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ثبوت کا بوجھ ڈرائیور پر ہی ہوگا۔ صرف زبانی دعویٰ کافی نہیں ہوگا۔ اگر فراہم کردہ ثبوت ناکافی ہوئے، تو جرمانہ برقرار رہے گا اور تاخیر کی صورت میں جرمانے کی رقم بھی بڑھ سکتی ہے۔
نئے سسٹم کو قومی وہیکل ڈیٹا بیس سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ جیسے ہی کوئی چالان منسوخ ہوگا، تمام صوبائی اور وفاقی ریکارڈز میں گاڑی کی حیثیت خود بخود اپ ڈیٹ ہو جائے گی۔
جو شہری ڈیجیٹل نظام سے واقف نہیں، وہ اب بھی ٹریفک سہولت مراکز جا سکتے ہیں۔ تاہم، محکمہ ٹریفک کا مقصد زیادہ سے زیادہ شکایات کو آن لائن منتقل کرنا ہے تاکہ دفتری رش کم ہو اور غلطیوں کا تدارک فوری ممکن ہو۔
یاد رہے کہ چالان جاری ہونے کے 15 دن کے اندر اندر چیلنج کرنا لازمی ہے۔ اس مدت کے بعد جرمانے کو درست تسلیم کر لیا جائے گا اور ادائیگی ہر صورت میں کرنا ہوگی۔
