وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت جمال شاہ اورنگزیب کھچی نے اردو زبان کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے ‘تاریخی اردو لغت’ کی نظرثانی شدہ پہلی تین جلدیں باضابطہ طور پر جاری کر دی ہیں۔ یہ اقدام اردو کے لسانی ذخیرے کو جدید تقاضوں کے مطابق محفوظ کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔
ترقی اردو بورڈ کے زیر اہتمام تیار کی گئی ان جلدوں میں الفاظ کے قدیم اور جدید استعمال، ان کے ارتقائی سفر اور صوتی و معنوی تبدیلیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ لغت کی تیاری میں شامل ماہرین کے مطابق، یہ کام محض الفاظ کے معانی تک محدود نہیں بلکہ یہ برصغیر میں اردو کے تہذیبی اور لسانی سفر کی دستاویزی تاریخ ہے۔
وزیر اورنگزیب کھچی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زبانیں جامد نہیں ہوتیں، وہ وقت کے ساتھ بدلتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان تبدیلیوں کو نہ صرف ریکارڈ کریں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے اسے مستند شکل میں محفوظ بھی کریں۔” انہوں نے بورڈ کے محققین کی کوششوں کو سراہا جنہوں نے برسوں کی جانفشانی کے بعد یہ مواد مرتب کیا۔
اس منصوبے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اردو لغت کی تجدید کا کام التوا کا شکار تھا۔ ماہرینِ لسانیات کا ماننا ہے کہ یہ لغت نہ صرف طلبہ اور محققین کے لیے ایک ریفرنس کے طور پر کام کرے گی بلکہ اردو کے ادبی حلقوں میں بھی اسے ایک مستند حوالہ مانا جائے گا۔
تقریب میں یہ بھی بتایا گیا کہ باقی جلدوں پر کام تیزی سے جاری ہے اور اسے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔ اردو کی یہ تاریخی لغت اب لائبریریوں اور تعلیمی اداروں کے لیے دستیاب ہوگی۔
یہ تین جلدیں اردو زبان کے اس وسیع سمندر کا پہلا حصہ ہیں جو اب تک غیر مرتب شکل میں موجود تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا باقی جلدوں کی اشاعت بھی اسی رفتار اور معیار کے ساتھ مکمل ہو پاتی ہے یا نہیں۔
