کٹھمنڈو — نیپال میں مون سون کی شدید بارشوں نے نہ صرف معمولاتِ زندگی کو معطل کیا ہے بلکہ ملک کا جغرافیہ بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ تین روز تک جاری رہنے والی موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں اب تک 244 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، جبکہ درجنوں لوگ اب بھی مٹی اور ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
نقصان صرف انسانی جانوں کا ضیاع نہیں ہے۔ کٹھمنڈو وادی کو مشرقی میدانی علاقوں سے ملانے والی مرکزی شاہراہ، بی پی ہائی وے، کئی مقامات سے مکمل طور پر کٹ چکی ہے۔ دارالحکومت میں محصور شہریوں کے لیے مواصلاتی رابطے منقطع ہو چکے ہیں، جس کے باعث اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
کاورے پالان چوک کے رہائشی رام بہادر نے ایک عارضی پناہ گاہ سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم نے دریا کو دس منٹ کے اندر چھ فٹ اوپر آتے دیکھا۔ ہمیں کچھ بھی بچانے کا موقع نہیں ملا، حتیٰ کہ ہمارے مویشی بھی پانی میں بہہ گئے۔” وہ اب تین خاندانوں کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
یہ تباہی ایک مقامی مگر انتہائی شدید موسمی نظام کا نتیجہ ہے جو وسطی نیپال پر کئی گھنٹوں تک جم کر رہ گیا۔ ماہرینِ موسمیات کے مطابق، اگرچہ مون سون یہاں کی سالانہ حقیقت ہے، لیکن اس بار ہوا کے دباؤ میں اچانک تبدیلی نے 48 گھنٹوں کے اندر ریکارڈ بارش برسائی۔ ہمالیہ کے بلند و بالا اور کمزور پہاڑی سلسلوں نے اس پانی کو ایک تباہ کن قوت میں بدل دیا، جس نے منٹوں میں پورے دیہات کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔
وزیراعظم کے پی شرما اولی نے امدادی کارروائیوں کے لیے نیپالی فوج کو متحرک کیا ہے، مگر دشوار گزار راستے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ بھاری مشینری دور دراز علاقوں تک نہیں پہنچ پا رہی، جس کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو ہاتھوں سے مٹی اور پتھر ہٹا کر لاشیں نکالنی پڑ رہی ہیں۔
اس بحران نے نیپال کے ابتدائی انتباہی نظام کی خامیوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ شہری علاقوں کو تو الرٹ مل گئے، لیکن دور افتادہ دیہات تب تک اس تباہی سے لاعلم رہے جب تک کہ سڑکیں ان کا رابطہ دنیا سے منقطع نہیں کر چکیں۔
بحالی کا عمل مہینوں نہیں، برسوں کا متقاضی ہے۔ جیسے جیسے پانی اتر رہا ہے، حکومت کو اس تلخ حقیقت کا سامنا ہے کہ جو انفراسٹرکچر "معمول” کی بارشوں کے لیے بنایا گیا تھا، وہ اب بدلتی ہوئی موسمیاتی شدت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ ہزاروں بے گھر خاندانوں کے لیے اب زندگی کی نئی شروعات ملبے تلے دبے اپنے گھروں کو صاف کرنے سے شروع ہوتی ہے۔
