مینگروو کے محفوظ اور گھنے جنگلات کے قلب تک پہنچنے کے لیے ایک نیا تیرتا ہوا پل عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ کئی سو میٹر طویل یہ پل جوار بھاٹا کے علاقوں کے اوپر سے گزرتا ہے، جس سے سیاحوں کو اس ماحولیاتی نظام کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملے گا جو اب تک عام رسائی سے دور تھا۔
یہ پل محض ایک راستہ نہیں، بلکہ سیاحت اور تحفظِ ماحول کے درمیان توازن قائم کرنے کی ایک نئی کوشش ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پیدل چلنے والوں کو کیچڑ والے حساس علاقوں سے اوپر رکھنے سے ان پودوں کی جڑوں کو ہونے والے نقصان کو روکا جا سکے گا، جو روایتی ٹریکنگ کے باعث خطرے میں تھے۔
اس منصوبے سے منسلک ایک ماہرِ ماحولیات نے بتایا کہ "ہم نے خود دیکھا ہے کہ سیاحوں کے جوتے ان نازک جڑوں کو کتنا نقصان پہنچاتے ہیں۔ لوگ درختوں کے قریب جانا چاہتے ہیں، لیکن اس عمل میں وہ اسی چیز کو تباہ کر دیتے ہیں جسے دیکھنے وہ آتے ہیں۔ یہ پل اس صورتحال کو بدل دے گا۔”
تعمیراتی لحاظ سے یہ پل ری سائیکل شدہ مواد سے بنے تیرنے والے ماڈیولز پر مشتمل ہے، جو سمندری لہروں کے ساتھ خود کو ڈھال لیتے ہیں۔ پانی کی سطح بلند ہو یا کم، یہ پل اپنی جگہ قائم رہتا ہے اور اسے کنکریٹ کے ستونوں کی طرح زمین میں گاڑنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جس سے جنگل کی سطح اپنی اصل حالت میں برقرار رہتی ہے۔
مقامی سیاحتی بورڈز کو سیاحوں کی تعداد میں اضافے کی توقع ہے، تاہم ماحولیاتی نگران کمیٹی نے یومیہ سیاحوں کی تعداد پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ داخلے کے مقام پر رینجرز تعینات کیے گئے ہیں تاکہ ہجوم کو کنٹرول کیا جا سکے اور جنگلی حیات کے مسکن میں شور کو کم سے کم رکھا جائے۔
دوسری جانب کچھ ماہرین کو خدشہ ہے کہ پل کے باوجود انسانی موجودگی نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے گھونسلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اگرچہ پل کا ڈیزائن ماحول سے جسمانی رابطے کو محدود کرتا ہے، لیکن سیاحوں کی مسلسل آمد و رفت اور شور ایسے عوامل ہیں جن پر حیاتیات کے ماہرین گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
فی الحال یہ پل طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک کھلا رہتا ہے۔ یہ شہر کے ہنگاموں سے دور، مینگروو کی خاموش دنیا اور وہاں موجود آبی حیات کو دیکھنے کا ایک نادر موقع فراہم کرتا ہے۔ اب یہ عوام پر منحصر ہے کہ وہ اس "انتظامی نوعیت” کے تجربے کا احترام کرتے ہوئے جنگل کی حدود کا کتنا خیال رکھتے ہیں۔
