برطانیہ میں ہیج ہاگ کی آبادی خطرناک حد تک کم ہو رہی ہے اور اس کی بڑی وجہ ملک کا وسیع سڑکوں کا جال ہے۔ ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ سڑکوں پر ہونے والی ہلاکتیں اس سطح پر پہنچ چکی ہیں کہ اب یہ نسل کئی علاقوں سے مکمل طور پر غائب ہونے کے قریب ہے۔
اعداد و شمار تشویشناک ہیں۔ وائلڈ لائف چیریٹیز کی رپورٹس کے مطابق ہر سال ہزاروں ہیج ہاگ گاڑیوں کی زد میں آ کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کچھ علاقوں میں ان کی آبادی میں 50 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ ایک ایسا خاموش بحران ہے جس کا اندازہ تب ہوتا ہے جب رات کے وقت ان کے نظر آنے کا سلسلہ مکمل تھم جاتا ہے۔
برٹش ہیج ہاگ پریزرویشن سوسائٹی کی محقق سارہ جینکنز کہتی ہیں، "ہم صرف انفرادی جانور نہیں کھو رہے، بلکہ ان کی نسل کی بحالی کی صلاحیت ختم ہو رہی ہے۔ جب آپ اس رفتار سے افزائشِ نسل کرنے والے بالغ ہیج ہاگ کو کھو دیتے ہیں، تو مقامی سطح پر ان کے معدوم ہونے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔”
مسئلہ صرف ٹریفک کا دباؤ نہیں، بلکہ رہائشی علاقوں کا ٹکڑوں میں بٹ جانا ہے۔ ہیج ہاگ خوراک یا ساتھی کی تلاش میں رات بھر میں دو کلومیٹر تک کا سفر کر سکتے ہیں۔ جب سڑکیں یا دیواریں ان کے قدرتی راستوں کو کاٹتی ہیں، تو یہ جانور سڑک پار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس دیکھ کر ان کا دفاعی ردعمل خود کو گیند کی طرح سکیڑ لینا ہے — ایک ایسا طریقہ جو ٹائروں کے نیچے آنے سے بچانے میں مکمل ناکام رہتا ہے۔
انفراسٹرکچر کے منصوبہ سازوں نے سڑکوں کے ڈیزائن میں ان چھوٹے جانوروں کو کبھی ترجیح نہیں دی۔ جہاں ہرن یا دیگر بڑے جانوروں کے لیے ‘وائلڈ لائف برج’ بنائے جاتے ہیں، وہاں چھوٹے ممالیہ جانوروں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں میں سڑکوں کی معمولی توسیع بھی ہیج ہاگ کے لیے موت کا جال بن جاتی ہے۔
کچھ مقامی کونسلوں نے ‘ہیج ہاگ ہائی ویز’ کا تجربہ شروع کیا ہے، جس میں باڑوں میں چھوٹے سوراخ اور سڑکوں کے نیچے سرنگیں بنائی جا رہی ہیں تاکہ ان کے راستے بحال ہو سکیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدامات ایک بہت بڑے زخم پر معمولی مرہم کے مترادف ہیں۔ جب تک قومی سطح پر سڑکوں کے نیٹ ورک میں حیاتیاتی راہداریوں کو شامل نہیں کیا جاتا، تب تک یہ کوششیں بے سود رہیں گی۔
ہیج ہاگ کا خاتمہ محض ایک جانور کا نقصان نہیں، بلکہ یہ پورے ماحولیاتی نظام کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ جانور باغوں میں نقصان دہ کیڑوں کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، اور ان کا غائب ہونا شہری اور دیہی حیاتیاتی تنوع کے بکھرنے کا اشارہ ہے۔
فی الحال سڑکیں ہیج ہاگ کی دنیا میں سب سے بڑا قاتل بنی ہوئی ہیں۔ اگر منصوبہ سازوں نے سڑکوں کو صرف ٹریفک کی گزرگاہ کے بجائے زندگی کی رکاوٹ کے طور پر نہ دیکھا، تو جھاڑیوں میں ان کی ہلچل جلد ہی صرف ایک یاد بن کر رہ جائے گی۔
