چین کے مالیاتی مرکز شنگھائی میں پیر کی صبح طاقتور سمندری طوفان ’بیبینکا‘ نے دستک دے دی۔ 1949 کے بعد سے یہ شہر سے ٹکرانے والا اب تک کا سب سے شدید طوفان ہے، جس کے پیشِ نظر حکام نے شنگھائی اور گردونواح کے صوبوں سے تقریباً 20 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
طوفان نے صبح ساڑھے سات بجے کے قریب پودونگ ڈسٹرکٹ کے علاقے لنگانگ میں زمین کو چھوا۔ طوفان کے مرکز میں ہواؤں کی رفتار 151 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، جس نے ساحلی دفاعی ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچایا اور پانی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا۔
شنگھائی کے ڈھائی کروڑ رہائشیوں کے لیے پیر کی صبح معمول سے ہٹ کر تھی۔ حکام نے پودونگ اور ہونگکیاؤ ایئرپورٹس پر تمام پروازیں معطل کر دیں، جبکہ ہائی اسپیڈ ٹرین سروسز اور اہم شاہراہوں کو بھی بند کر دیا گیا۔ شہر کی مشہور فلک بوس عمارتیں، جو عام طور پر تجارتی سرگرمیوں کا مرکز ہوتی ہیں، مسلسل بارش اور دھند کی لپیٹ میں ہیں۔
ایک مقامی امدادی کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "یہ صرف بارش نہیں، بلکہ ساحلی صنعتی زونز کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ انخلا ہی جانی نقصان سے بچنے کا واحد راستہ تھا، لیکن بحالی کے کاموں میں ہفتوں لگ سکتے ہیں۔”
انتظامیہ نے شنگھائی کے علاوہ جیانگ سو اور ژی جیانگ صوبوں میں بھی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کروائی۔ ہنگامی ٹیمیں سیلاب کے خدشے اور بجلی کے گرڈز کو پہنچنے والے نقصانات سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہیں۔
اگرچہ خشکی پر پہنچنے کے بعد طوفان کی شدت میں قدرے کمی آئی ہے، مگر ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔ کچھ علاقوں میں 300 ملی میٹر تک بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، جس سے اندرونی پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
طوفان کا یہ حملہ ‘مڈ آٹم فیسٹیول’ کی آخری تعطیل کے دن ہوا، جس نے لاکھوں افراد کے سفری منصوبوں کو درہم برہم کر دیا ہے۔ حکومت نے تاحال املاک کو پہنچنے والے نقصان کے سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے، تاہم انخلا کی وسعت طوفان کی تباہ کاریوں کی نشاندہی کرتی ہے۔
فی الحال تمام تر توجہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز اور متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی بحال کرنے پر مرکوز ہے۔ طوفان شمال مغرب کی جانب بڑھ رہا ہے اور آہستہ آہستہ اپنی قوت کھو رہا ہے، لیکن ساحلی علاقوں کے مکینوں کے لیے بحالی کا طویل مرحلہ ابھی شروع ہوا ہے۔
