اسپین میں جنگل کی آگ کے دوران کھائی میں پھنس جانے والے ایک برطانوی جوڑے کو شدید زخمی حالت میں ریسکیو کر لیا گیا۔ مقامی ایمرجنسی سروسز نے منگل کی صبح ویلنسیا کے پہاڑی علاقے میں ایک طویل آپریشن کے بعد دونوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا۔
پچاس سالہ جوڑا مونٹیٹسیلو قصبے کے قریب ہائیکنگ کر رہا تھا کہ اچانک آگ نے ان کے گرد گھیرا تنگ کر دیا۔ خشک موسم اور تیز ہواؤں کے باعث آگ تیزی سے پھیلی، جس نے واپسی کا راستہ مکمل طور پر بند کر دیا۔
ریسکیو حکام کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "وہ ایک جال میں پھنس گئے تھے۔ آگ کی رفتار توقع سے کہیں زیادہ تھی، جس کے بعد ان کے پاس کھائی میں اترنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا، مگر وہاں موجود دھویں اور گرمی نے انہیں جلد ہی بے دم کر دیا۔”
امدادی ٹیموں کو جوڑے کی جانب سے کی گئی ہنگامی کال کے بعد ان کی لوکیشن کا پتہ چلا۔ شدید دھویں کے باعث ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو آپریشن منگل کی صبح تک ملتوی کرنا پڑا، جس کے بعد گراؤنڈ ٹیموں نے پیدل چل کر ان تک رسائی حاصل کی۔ دونوں میاں بیوی شدید جھلس چکے تھے اور انہیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں ویلنسیا کے لا فی (La Fe) ہسپتال پہنچایا گیا۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق دونوں کی حالت تشویشناک مگر مستحکم ہے۔ زخموں کی شدت کے پیشِ نظر انہیں فی الحال درد کم کرنے والی ادویات کے زیر اثر رکھا گیا ہے۔
یہ واقعہ اسپین میں جنگل کی آگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کی ایک تلخ یاد دہانی ہے، جہاں طویل خشک سالی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اگرچہ حکومت نے آگ پر قابو پانے کے لیے اضافی وسائل تعینات کر دیے ہیں، تاہم پورے خطے میں ہائی الرٹ جاری ہے۔
میڈرڈ میں برطانوی سفارت خانے نے جوڑے کو قونصلر معاونت فراہم کرنے کی تصدیق کی ہے اور ان کے اہل خانہ سے رابطے میں ہیں۔ فی الحال تمام تر توجہ جوڑے کی صحت یابی پر مرکوز ہے، جبکہ مقامی پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ کیا تھی۔
