برطانیہ کے آسمان پر اس ہفتے ایک جزوی سورج گرہن کا نظارہ کیا جائے گا، جس کے دوران چاند سورج کا ایک حصہ ڈھانپ لے گا۔ اگرچہ یہ مکمل تاریکی کا باعث نہیں بنے گا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فلکیاتی منظر ماحول میں ایک واضح تبدیلی لائے گا۔
یہ عمل سہ پہر کے آخری حصے میں شروع ہوگا، جب چاند کا سایہ سورج کے کنارے کو چھوتے ہوئے آگے بڑھے گا۔ برطانیہ کے بیشتر حصوں میں یہ منظر ایسا ہوگا جیسے سورج کے قرص سے کوئی ٹکڑا کاٹ لیا گیا ہو۔ اس کا دورانیہ ہر علاقے کے لحاظ سے مختلف ہوگا، لیکن سب سے نمایاں اثرات شمالی اور مغربی علاقوں میں محسوس کیے جائیں گے۔
ماہرین فلکیات کے مطابق ہیبرائیڈز اور شمالی آئرلینڈ کے کچھ حصے اس نظارے کے لیے بہترین مقامات ہیں۔ یہاں چاند سورج کے بڑے حصے کو ڈھانپے گا، جس سے روشنی میں ایسی کمی آئے گی جو شام کے دھندلکے کا گمان پیدا کرے گی۔ ایسی صورتحال میں پرندے اکثر خاموش ہو جاتے ہیں اور درجہ حرارت میں بھی معمولی گراوٹ دیکھی جاتی ہے۔
ایک ماہر فلکیات نے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، "یہ مکمل سورج گرہن نہیں ہے، اس لیے اس کی توقع نہ رکھیں کہ دن میں ہی سڑکوں کی لائٹس جل اٹھیں گی۔ البتہ یہ ہمارے نظام شمسی کی حرکیات کو براہِ راست دیکھنے کا ایک نایاب موقع ہے۔”
مشاہدے کے دوران انسانی آنکھ کی حفاظت سب سے اہم ہے۔ سورج کو براہِ راست دیکھنا—گرہن کے دوران بھی—آنکھوں کے پردے کو مستقل نقصان پہنچا سکتا ہے۔ عام دھوپ کے چشمے اس کے لیے قطعی ناکافی ہیں۔ ماہرین آئی ایس او سے تصدیق شدہ ایکلیپس گلاسز یا پن ہول کیمرے جیسے بالواسطہ طریقوں کے استعمال پر زور دے رہے ہیں۔
برطانیہ میں اس طرح کے فلکیاتی واقعات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ برطانیہ کا موسم اکثر بادلوں کے باعث رکاوٹ بنتا ہے، تاہم موجودہ موسمیاتی ماڈلز کے مطابق مغربی ساحل پر مطلع صاف رہنے کا امکان ہے، جو مشاہدے کے خواہشمند افراد کے لیے ایک اچھا موقع ثابت ہو سکتا ہے۔
اگر آپ اس بار اس منظر کو دیکھنے سے محروم رہ گئے، تو برطانیہ میں اگلا نمایاں سورج گرہن 2026 میں متوقع ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ مغربی افق پر نظر رکھیں اور جب تک گرہن کا سایہ مکمل طور پر چھٹ نہ جائے، اپنی آنکھوں کی حفاظت کے لیے مخصوص چشموں کا استعمال ہرگز ترک نہ کریں۔
