کراچی — میر رضا کی موت کے حقائق جاننے کے لیے عدالتی حکم پر ان کی قبر کشائی مکمل کر لی گئی ہے۔ عدالتی مجسٹریٹ کی نگرانی میں فرانزک ٹیم نے باقیات سے نمونے حاصل کیے ہیں، جو اب لیبارٹری بھجوائے جا رہے ہیں۔ اس کیس نے قانونی اور سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ خاندان مسلسل غفلت کا الزام عائد کر رہا ہے۔
انسانی حقوق کے وکیل اور اس کیس میں خاندان کے نمائندے، جبران ناصر نے قبرستان کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض موت کی وجہ جاننے کا معاملہ نہیں بلکہ اس پورے نظام کی ناکامی کا ہے جس نے سچ تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔
جبران ناصر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ابتدائی تفتیش میں شواہد کو جس طرح نظر انداز کیا گیا، وہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ خاندان کا مؤقف ہے کہ اگر پولیس نے واقعے کے فوری بعد سنجیدگی دکھائی ہوتی تو آج قبر کشائی کا کربناک مرحلہ نہ دیکھنا پڑتا۔
اب تمام تر توجہ فرانزک رپورٹ پر مرکوز ہے۔ عدالت نے میڈیکل بورڈ کو دس دن کے اندر رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، اس رپورٹ میں کسی بھی قسم کی تکنیکی خامی یا زنجیرِ تحویل میں لاپرواہی، کیس کا رخ موڑ سکتی ہے۔
مقتول کے لواحقین کے لیے یہ انتظار ایک امتحان سے کم نہیں۔ وہ طویل عرصے سے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پولیس کی ابتدائی رپورٹ حقائق کے برعکس ہے۔ جبران ناصر نے خبردار کیا ہے کہ اگر فرانزک نتائج غیر حتمی رہے یا ان میں کوئی تضاد پایا گیا، تو وہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے میں ایک لمحہ ضائع نہیں کریں گے۔
اب گیند میڈیکل بورڈ اور لیبارٹری کے کورٹ میں ہے۔ یہ رپورٹ یا تو خاندان کے خدشات پر مہر تصدیق ثبت کرے گی، یا پھر اس کیس کو ایک طویل قانونی جنگ میں دھکیل دے گی۔ سچائی تک پہنچنے کا یہ آخری راستہ ہے، جس کے نتائج کا انتظار صرف خاندان کو نہیں، بلکہ انصاف کے متلاشی ہر اس شخص کو ہے جو اس کیس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
