گوادر کے ساحلی علاقوں میں منگل کی صبح سے پراسرار طور پر خام تیل کی تہہ جمنا شروع ہو گئی ہے، جس نے ساحل کو سیاہ رنگ میں بدل دیا ہے۔ تیل کے یہ دھبے پشکان اور گنز کے علاقوں تک پھیل چکے ہیں، تاہم ضلعی انتظامیہ اب تک اس آلودگی کے منبع کا تعین کرنے میں ناکام ہے۔
مقامی معیشت کی شہ رگ ماہی گیری ہے۔ ساحل پر تیل کے پھیلاؤ کے بعد ماہی گیروں نے اپنی کشتیاں سمندر میں اتارنے سے گریز کیا ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ تیل نہ صرف ان کے جالوں کو برباد کر دے گا بلکہ سمندری حیات کو بھی زہر آلود کر دے گا۔ ہزاروں خاندانوں کا روزگار اسی سمندر سے وابستہ ہے، اور یہ صورتحال ان کے لیے کسی معاشی بحران سے کم نہیں۔
ایک مقامی ماہی گیر نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "ہم صبح اٹھے تو ہوا میں کیمیکلز کی بو تھی اور ساحل پر کالا تیل۔ اگر یہ زہریلا مواد گہرے سمندر تک پہنچ گیا، تو ہم مہینوں تک خالی ہاتھ بیٹھے رہیں گے۔”
ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ گوادر میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جدید آلات کا فقدان ہے۔ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) اور بحری حکام نے صفائی کا عمل شروع تو کیا ہے، مگر ہاتھ سے تیل صاف کرنے کی کوششیں وسیع پیمانے پر پھیلتی اس آلودگی کے سامنے ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔ سمندری لہریں اس تیل کو مزید مشرق کی جانب لے جا رہی ہیں، جہاں مینگرووز کے جنگلات موجود ہیں؛ یہ علاقے سمندری حیات کی افزائش کے لیے نرسری کا درجہ رکھتے ہیں۔
اس واقعے نے مقامی حلقوں میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ بندرگاہ پر بڑھتی ہوئی بحری ٹریفک کے باوجود ہنگامی ردعمل کے لیے کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں، اور یہ حادثہ اسی غفلت کا نتیجہ ہے۔
صوبائی حکومت نے تحقیقات کا وعدہ کیا ہے، لیکن ماضی کے واقعات بتاتے ہیں کہ ایسی انکوائریاں اکثر بیوروکریسی کی نذر ہو جاتی ہیں۔ فی الحال توجہ صرف تیل کے پھیلاؤ کو روکنے پر مرکوز ہے۔ جیسے جیسے لہریں تیل کو ساحل کے اندر لے جا رہی ہیں، ماحولیاتی تباہی کو روکنے کا وقت تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔
یہ کسی گزرتے ہوئے آئل ٹینکر کا رساؤ ہے یا بندرگاہ کے لوڈنگ سسٹم کی خرابی، اس کا جواب تاحال نہیں ملا۔ مقامی لوگ کسی سرکاری رپورٹ کے منتظر نہیں؛ وہ صرف اپنے ساحل کو لہروں کے ساتھ آتے سیاہ زہر میں ڈوبتے دیکھ رہے ہیں۔
