گلستانِ جوہر میں صبح کا آغاز اب معمول کی نقل و حرکت سے نہیں، بلکہ ایک تھکا دینے والے امتحان سے ہوتا ہے۔ علاقے کی مرکزی شاہراہوں پر جگہ جگہ بنے گہرے گڑھے ڈرائیوروں کے لیے کسی کٹھن رکاوٹ سے کم نہیں۔ کام پر جانے والے افراد ہوں یا اسکول جانے والے بچے، ہر کوئی اس ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کے جال میں پھنس کر رہ گیا ہے۔
سڑکوں کا فرش کہیں سے اکھڑ چکا ہے تو کہیں گہرے شگاف پڑ چکے ہیں۔ ٹریفک کے رش کے اوقات میں گاڑیاں رینگتی دکھائی دیتی ہیں، کیونکہ ڈرائیورز اپنی گاڑیوں کو ان گڑھوں سے بچانے کی کوشش میں بار بار سمت تبدیل کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ٹریفک کے بہاؤ کو متاثر کر رہی ہے بلکہ تنگ گلیوں میں گھنٹوں طویل جام کا باعث بھی بن رہی ہے۔
بلاک 13 کے رہائشی سلیم احمد گزشتہ دس برسوں سے یہاں مقیم ہیں۔ وہ اپنی گاڑی کے ٹائروں اور سسپنشن کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں، "میں ایندھن سے زیادہ خرچہ گاڑی کی مرمت پر کر رہا ہوں۔ یا تو آپ گڑھے میں گاڑی ڈال کر نقصان اٹھائیں، یا بچانے کے چکر میں کسی موٹر سائیکل سوار سے ٹکرا جائیں۔ یہاں کوئی راستہ محفوظ نہیں۔”
مسئلہ صرف ٹوٹ پھوٹ تک محدود نہیں۔ نکاسیِ آب کا ناقص نظام اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ پانی کی لائنیں پھٹنے یا بارش کے بعد یہ گڑھے گندے پانی سے بھر جاتے ہیں، جس سے ان کی گہرائی کا اندازہ لگانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کے لیے یہ تالاب کسی موت کے کنویں سے کم نہیں، جہاں پھسلنے کے واقعات روز کا معمول ہیں۔
مقامی انتظامیہ کی خاموشی نے رہائشیوں کی مایوسی میں اضافہ کیا ہے۔ برسوں سے کی جانے والی شکایات کے باوجود، حکام کی جانب سے صرف خانہ پری کے طور پر ‘پیچ ورک’ کیا جاتا ہے جو چند ہفتوں کی بارش یا ہیوی ٹریفک کا بوجھ بھی نہیں سہہ پاتا۔ پانی کے ٹینکرز اور پبلک ٹرانسپورٹ کے بھاری ٹائروں کے سامنے کچی بجری اور ناقص تارکول کی یہ تہہ بے بس نظر آتی ہے۔
اس صورتحال کا معاشی اثر بھی نمایاں ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کے گزرنے سے اڑنے والی گرد و غبار ان کا سامان خراب کر رہی ہے، جبکہ رائیڈ ہیلنگ سروسز کے ڈرائیورز اب اندرونی بلاکس میں آنے سے کتراتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سڑکوں کی حالت ان کی گاڑیوں کے لیے تباہ کن ہے۔
گلستانِ جوہر کے رہائشیوں کے لیے یہ ٹوٹی سڑکیں انتظامی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ جب تک مستقل بنیادوں پر تعمیرِ نو نہیں کی جاتی، تب تک یہ علاقہ ایک ایسے تعطل کا شکار رہے گا جہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہر شہری کی زندگی کو متاثر کر رہا ہے۔
