پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ای-سم کے اجرا کے لیے نئی قیمتوں کا ڈھانچہ حتمی شکل دے دیا ہے، جس کے بعد موبائل آپریٹرز اب من مانے نرخ وصول نہیں کر سکیں گے۔ اس فیصلے کا مقصد مقامی مارکیٹ میں ڈیجیٹل سم کی خدمات کو معیاری بنانا اور صارفین پر پڑنے والے غیر ضروری مالی بوجھ کو ختم کرنا ہے۔
پاکستان میں ای-سم کی مقبولیت میں اضافے کے ساتھ ہی آپریٹرز نے اپنی مرضی کے نرخ مقرر کر رکھے تھے۔ کہیں اس سہولت کی قیمت 500 روپے تھی تو کہیں صارفین کو 1500 روپے تک ادا کرنا پڑ رہے تھے۔ پی ٹی اے کی نئی ہدایت کے تحت اب تمام نیٹ ورکس کے لیے ایک یکساں حد مقرر کر دی گئی ہے، جس سے قیمتوں میں پایا جانے والا تضاد ختم ہو جائے گا۔
صارفین کے لیے یہ اقدام ڈیجیٹل اپ گریڈ کو سستا بنانے کی ایک کوشش ہے۔ جہاں روایتی پلاسٹک سم ایک معمولی قیمت پر دستیاب ہے، وہیں ای-سم کو اب تک ایک ‘پریمیم سروس’ سمجھ کر مہنگا بیچا جا رہا تھا۔ ریگولیٹر کا ماننا ہے کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے سے صارفین کا رجحان فزیکل سم سے ڈیجیٹل سم کی طرف بڑھے گا، جو کہ عالمی سطح پر ٹیلی کام کے جدید تقاضوں کے عین مطابق ہے۔
ٹیلی کام ماہرین اس فیصلے کو انفراسٹرکچر کی تیاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ چونکہ اب زیادہ تر اسمارٹ فونز میں ڈوئل ای-سم کی سہولت موجود ہے، اس لیے ریگولیٹر ڈیجیٹل آن بورڈنگ کے عمل کو ہموار کرنا چاہتا ہے۔
اس معاملے پر ایک سینئر ریگولیٹری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "مقصد ڈیجیٹل شناخت اور تصدیق کے عمل کو آسان بنانا ہے۔ اگر داخلے کی قیمت ہی من مانی ہوگی تو ہم ایک فعال ڈیجیٹل ایکو سسٹم قائم نہیں کر سکتے۔”
دوسری جانب، موبائل آپریٹرز کا موقف ہے کہ ای-سم کی فراہمی کے لیے سرور کی دیکھ بھال اور سیکیورٹی پروٹوکولز پر بھاری اخراجات اٹھتے ہیں۔ کچھ حلقوں کا خدشہ ہے کہ قیمتوں پر کیپ (حد) لگانے کے بعد کمپنیاں اس نقصان کا ازالہ ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں اضافہ کر کے کر سکتی ہیں۔
نئے نرخوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔ پی ٹی اے نے تمام آپریٹرز کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹس اور ریٹیل آؤٹ لیٹس پر نئے نرخوں کو نمایاں کریں۔ ان ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے آپریٹرز کے بلنگ سسٹمز کا آڈٹ کیا جائے گا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ پالیسی واقعی صارفین کے لیے آسانی لاتی ہے یا کمپنیاں کوئی دوسرا راستہ نکالتی ہیں۔ فی الحال، ریٹیل اسٹورز پر ‘ایکٹیویشن چارجز’ کے نام پر ہونے والی لوٹ مار کا سلسلہ قانونی طور پر ختم ہو چکا ہے۔
