کراچی — وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے برسوں سے تعطل کا شکار کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کو بحال کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد حکام نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے، جس کا مقصد منصوبے کی راہ میں حائل بیوروکریٹک اور مالیاتی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔
منصوبے کو اب چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے فریم ورک میں شامل کیا جا رہا ہے۔ منصوبہ سازوں کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف درکار فنڈز کی فراہمی یقینی بنے گی بلکہ فنی
نگرانی کا عمل بھی تیز ہو سکے گا۔
شہرِ قائد کے دو کروڑ مکینوں کے لیے یہ خبر ایک امید کی کرن ہے۔ کراچی کا موجودہ پبلک ٹرانسپورٹ نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جس کے باعث شہری مہنگی نجی ٹیکسی سروسز یا خستہ حال بسوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر کے سی آر اپنے اصل ڈیزائن کے مطابق فعال ہو جائے تو یہ صنعتی علاقوں کو رہائشی مراکز سے جوڑ کر سڑکوں پر ٹریفک کا بوجھ نمایاں حد تک کم کر سکتا ہے۔
منصوبے سے وابستہ وزارتِ منصوبہ بندی کے ایک سینئر عہدیدار نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم نے زمین کے حصول اور فنڈنگ سے متعلق بنیادی رکاوٹیں دور کر لی ہیں۔“ تاہم، انہوں نے منصوبے کی تکمیل کے لیے کسی حتمی تاریخ کا ذکر نہیں کیا، جس کی بڑی وجہ 43 کلومیٹر طویل ٹریک پر قائم تجاوزات کو ہٹانے کا پیچیدہ عمل ہے۔
کے سی آر کو بحال کرنے کی گزشتہ کوششیں زمین کے مالکانہ حقوق کے تنازعات اور ریلوے کوریڈور کے ساتھ آباد خاندانوں کی منتقلی کے مسائل کے باعث ناکام رہی ہیں۔ اس بار حکومت کا دعویٰ ہے کہ متاثرین کی بحالی کے لیے ”معاوضہ پہلے“ کی پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔
یہ منصوبہ محض ایک لاجسٹک ضرورت نہیں، بلکہ ایک سیاسی تقاضا بھی ہے۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اور وفاقی اتحاد دونوں کراچی میں کوئی بڑا عوامی منصوبہ مکمل کر کے اپنی ساکھ بہتر بنانا چاہتے ہیں، کیونکہ یہ شہر طویل عرصے سے وفاق کی جانب سے نظر انداز کیے جانے کا شکوہ کرتا آیا ہے۔
دوسری جانب، ناقدین اب بھی محتاط ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں کی تاریخ ٹوٹے ہوئے وعدوں اور لاگت میں بے پناہ اضافے سے بھری پڑی ہے۔ کے سی آر کی کامیابی کے لیے محض بورڈ روم میں دستخط شدہ معاہدے کافی نہیں ہوں گے؛ اس کے لیے مستقل اور مخصوص فنڈنگ درکار ہے جو بجٹ کے نئے چکروں میں غائب نہ ہو۔
فی الحال، تکنیکی ٹیمیں اگلے ماہ نئے سرے سے فزیبلٹی سروے شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ یہ کوشش بالآخر کے سی آر کو پٹری پر واپس لائے گی یا منصوبے کی ناکامیوں کی طویل فہرست میں ایک اور اضافہ ثابت ہوگی، اس کا فیصلہ آنے والے مہینوں میں ہوگا۔
