میلامچی، نیپال — انڈراوتی دریا کے حالیہ تباہ کن سیلاب نے میلامچی کے پورے علاقے کو ملبے کے ڈھیر میں بدل دیا، مگر ایک دو منزلہ گھر اب بھی اپنی جگہ قائم ہے۔ جہاں آس پاس کی تمام عمارتیں پانی کے زور سے تنکوں کی طرح بہہ گئیں، وہاں اس گھر کا بچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں۔
مقامی کسان کی ملکیت یہ گھر دریا کے اس موڑ پر واقع ہے جہاں پانی کا بہاؤ سب سے زیادہ شدید تھا۔ جب مون سون کی غیر معمولی بارشوں نے دریا کا رخ موڑا اور کنکریٹ کے حفاظتی بند توڑ دیے، تو یہ گھر ایک چٹان کی طرح ڈٹا رہا۔
پڑوسی رمیش شریستھا نے، جن کا اپنا گھر سیلاب کی نذر ہو چکا ہے، بتایا: "ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پانی پورچ کے نیچے سے زمین کو کھا رہا تھا۔ ہمیں یقین تھا کہ آدھی رات تک یہ گھر بھی مٹ جائے گا، لیکن صبح تک دریا کا رخ بدل چکا تھا اور یہ گھر بدستور کھڑا تھا۔”
انجینئرز اور ماہرینِ ارضیات کے مطابق اس گھر کی بقا کی وجہ اس کی بنیاد ہے۔ جدید کنکریٹ کے برعکس، اس گھر کی بنیادیں مقامی پتھروں اور روایتی چنائی سے تیار کی گئی تھیں، جو سیلابی ریلے کے ساتھ آنے والی مٹی اور دباؤ کو برداشت کر گئیں۔ یہ تعمیراتی تکنیک ان جدید ڈھانچوں سے کہیں زیادہ مضبوط ثابت ہوئی جو سیلاب کی پہلی لہر ہی نہ سہہ سکے۔
تاہم، اس گھر کا بچ جانا ایک تلخ حقیقت بھی سامنے لاتا ہے۔ اب یہ عمارت ایک جزیرے کی مانند تنہا کھڑی ہے؛ نہ سڑک کا رابطہ باقی ہے، نہ بجلی، اور نہ ہی وہ آبادی جو کبھی اس کے گرد بستی تھی۔
ایک مقامی عہدیدار نے تباہ شدہ علاقے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: "یہ انجینئرنگ کا معجزہ ہو یا محض قسمت، گھر تو سلامت ہے لیکن اس کے باہر اب کچھ نہیں بچا۔”
حکومت کی جانب سے ابھی تک اس مکمل تباہی کی کوئی حتمی رپورٹ جاری نہیں ہوئی، لیکن موسمیاتی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ انڈراوتی دریا کا یہ بدلتا ہوا مزاج بالائی علاقوں میں جنگلات کی کٹائی کا نتیجہ ہے۔
یہ گھر اب اس سیلابی غیظ و غضب کا واحد گواہ ہے۔ یہ تنہا کھڑی عمارت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ بدلتے ہوئے موسموں اور بے رحم قدرت کے سامنے بقا کا دارومدار اکثر بہت چھوٹے اور غیر متوقع عوامل پر ہوتا ہے۔
