پاکستان کے 77 ویں یومِ آزادی کے موقع پر دنیا بھر کے اہم دارالحکومتوں سے اسلام آباد کو مبارکبادی پیغامات موصول ہوئے، جن میں عالمی رہنماؤں نے پاکستان کے ساتھ اپنے تزویراتی اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
یہ پیغامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے جب اسلام آباد میں کنونشن سینٹر کے مقام پر روایتی پرچم کشائی کی تقریب منعقد کی گئی۔
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے واشنگٹن کی جانب سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان "مشترکہ اہداف” پر زور دیا۔ انہوں نے خاص طور پر اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کو کلیدی قرار دیا۔ بلنکن نے اپنے پیغام میں چیلنجز کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خطے کو درپیش پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
بیجنگ سے چینی صدر شی جن پنگ کا پیغام روایتی گرمجوشی کا حامل تھا۔ انہوں نے پاکستان اور چین کے "آل ویدر” (ہر موسم کے) تعلقات کو سراہتے ہوئے چین پاکستان اقتصادی راہداری کو اس تعاون کی شہ رگ قرار دیا۔ صدر شی نے اس منصوبے کے "اعلیٰ معیار” کے نئے مرحلے پر زور دیا، جو گزشتہ ایک دہائی سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کی بنیاد بنا ہوا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کو تہنیتی پیغام بھیجا۔ پیوٹن کا پیغام خاص طور پر تجارت اور توانائی کے شعبوں میں تعلقات کی تعمیر نو پر مرکوز رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو جنوبی ایشیا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا خواہاں ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں نے اپنے پیغامات میں ان تاریخی ثقافتی اور مذہبی رشتوں کو اجاگر کیا جو پاکستان کے لیے ان کی مسلسل مالی معاونت کی بنیاد ہیں۔ یہ پیغامات پاکستان کے لیے ایک ایسے وقت میں اہمیت کے حامل ہیں جب ملک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کے تحت اپنی معیشت کی بحالی کے لیے کوشاں ہے۔
اگرچہ سفارتی سطح پر یہ پیغامات روایتی انداز میں دیے گئے، لیکن ان کا وقت انتہائی اہم ہے۔ پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر ہے جہاں اسے ایک طرف امریکی مالیاتی نگرانی کے تقاضے پورے کرنے ہیں تو دوسری طرف چینی قرضوں کے بوجھ کو سنبھالنا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی تقریبات گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کچھ سادہ رہیں، جو ملک میں جاری سیاسی تقسیم اور معاشی تناؤ کی عکاس ہیں۔ جہاں عالمی رہنماؤں نے سفارتی آداب کے مطابق نیک خواہشات کا اظہار کیا، وہیں ملک کے اندر عوام کی توجہ بین الاقوامی تعلقات کے بجائے داخلی استحکام پر مرکوز رہی۔
حکومتی حلقوں کے لیے، یہ سفارتی پیغامات ایک دوہرا مقصد رکھتے ہیں: یہ ایک ایسے عالمی منظر نامے میں پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں جو تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ معاشی بحالی کے لیے درکار بیرونی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
