نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرہ) نے پاکستان میں شناختی کارڈ کے نئے اور جدید ترین ڈیزائن کا باقاعدہ اجراء کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شناختی چوری کے واقعات کو روکنا اور ملک بھر میں ڈیجیٹل تصدیق کے عمل کو مزید محفوظ بنانا ہے۔
نئے شناختی کارڈ میں روایتی پرنٹنگ کے بجائے لیزر اینگریونگ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ پولی کاربونیٹ سے تیار کردہ یہ کارڈ نہ صرف پائیدار ہے بلکہ اسے جعلی بنانا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ کارڈ میں ایک جدید چپ بھی نصب کی گئی ہے جو انکرپٹڈ ڈیٹا کو محفوظ رکھتی ہے، جس سے بینکنگ اور سرحدی گزرگاہوں پر تصدیق کا عمل سیکنڈوں میں مکمل ہو سکے گا۔
نادرہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ "ہم صرف کارڈ کا ڈیزائن نہیں بدل رہے، بلکہ پورے سیکیورٹی سسٹم کو مضبوط کر رہے ہیں۔ حالیہ دو برسوں میں فراڈ کی پیچیدہ کوششوں کو دیکھتے ہوئے یہ اپ گریڈ ناگزیر تھا۔”
موجودہ کارڈ رکھنے والوں کے لیے پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ پرانے کارڈز اپنی میعاد ختم ہونے تک کارآمد رہیں گے۔ نادرہ نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کو فوری طور پر رجسٹریشن سینٹرز کا رخ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کارڈ کا اجراء مرحلہ وار ہوگا، جس میں ترجیح نئے درخواست دہندگان اور ان لوگوں کو دی جائے گی جن کے کارڈز کی تجدید کا وقت قریب ہے۔
رجسٹریشن سینٹرز پر رش اور طویل انتظار کا مسئلہ ماضی میں بھی شہریوں کے لیے دردِ سر رہا ہے۔ اس بار نادرہ نے موبائل رجسٹریشن یونٹس کی تعداد میں اضافہ کیا ہے اور آن لائن پورٹل کو بہتر بنایا ہے تاکہ شہری گھر بیٹھے کارڈ کی تجدید کے لیے درخواست دے سکیں۔
کارڈ کی فیسوں کے ڈھانچے میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے؛ نارمل، ارجنٹ اور ایگزیکٹو کیٹگریز کے نرخ پہلے جیسے ہی ہیں۔ یہ کارڈ محض ایک شناختی دستاویز نہیں، بلکہ ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھتے ہوئے پاکستان کے لیے ٹیکس گوشواروں اور سماجی تحفظ کے پروگراموں تک رسائی کی ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
نادرہ کی جانب سے ایک دہائی بعد شناختی کارڈ کے ڈیزائن میں یہ بڑی تبدیلی ہے، تاہم اصل امتحان رجسٹریشن کے عمل کو عوامی سہولت کے مطابق ہموار رکھنا ہوگا۔ کیا یہ نئی ٹیکنالوجی واقعی فراڈ کے راستے بند کر سکے گی؟ اس کا جواب آنے والے مہینوں میں جاری ہونے والے اعداد و شمار سے ملے گا۔
