پنجاب اسمبلی نے بدھ کے روز صوبے بھر میں جاری غیر اعلانیہ اور طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف ایک متفقہ قرارداد منظور کر لی ہے۔ ایوان میں موجود حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے بجلی کے بحران پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزارتِ توانائی لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں اضافے کی وجوہات پر مبنی ایک شفاف رپورٹ پیش کرے۔ ارکانِ اسمبلی کا کہنا تھا کہ بجلی کی بھاری قیمتیں ادا کرنے کے باوجود عوام کو سہولت میسر نہیں، اور قومی گرڈ میں سرپلس بجلی کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔
ایوان میں بحث کے دوران ایک سینئر رکن نے کہا کہ "عوام مہنگے بل بھر رہے ہیں لیکن انہیں اندھیروں میں دھکیلا جا رہا ہے۔” فیصل آباد اور لاہور کے صنعتی مراکز میں بجلی کی بندش سے پیداواری عمل بری طرح متاثر ہوا ہے، جس کے باعث چھوٹے تاجروں اور صنعت کاروں کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔
وفاقی حکام اکثر ٹرانسمیشن کے نقصانات اور گردشی قرضوں کو اس بحران کی وجہ قرار دیتے ہیں، لیکن صوبائی اسمبلی کی جانب سے اس قرارداد کا منظور ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اب عوامی نمائندے ان روایتی جوابات سے مطمئن نہیں۔ قرارداد میں صوبائی حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی وزارتِ توانائی کے ساتھ معاملات کو سختی سے اٹھائے۔
پنجاب کی معیشت کا دارومدار ٹیکسٹائل اور چھوٹی صنعتوں پر ہے، جن کے لیے بجلی کی بلا تعطل فراہمی ناگزیر ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بجلی کی فراہمی کا نظام مستحکم نہ ہوا تو رواں سہ ماہی کے اختتام تک صنعتی پیداوار میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئے گی۔
اسمبلی نے صوبائی محکمہ توانائی کو 48 گھنٹوں کے اندر وفاقی حکام سے رابطہ کر کے بحران کے خاتمے کا روڈ میپ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اب گیند وفاقی وزارتِ توانائی کے کورٹ میں ہے کہ وہ صوبائی اسمبلی کے دباؤ پر کس حد تک عملی اقدامات اٹھاتی ہے۔
ایوان کا پیغام صاف ہے: موجودہ صورتحال مزید ناقابلِ برداشت ہے۔
