اسلام آباد — نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ میلیبینڈ پر واضح کر دیا ہے کہ روچڈیل میں سزا پانے والے مجرم کی پاکستان واپسی کے لیے فی الحال کوئی قانونی راستہ موجود نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہے، جس کے بغیر کسی بھی مجرم کو برطانیہ سے واپس لانا ممکن نہیں۔
یہ معاملہ برطانیہ میں عوامی غصے اور سیاسی دباؤ کا باعث بنا ہوا ہے۔ برطانوی حکام اس مجرم کو واپس بھیجنے کے خواہاں ہیں، لیکن اسحاق ڈار نے اپنی حالیہ بات چیت میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کسی بھی ایسے عمل کا حصہ نہیں بن سکتا جو بین الاقوامی قوانین اور دو طرفہ معاہدوں کی حدود سے باہر ہو۔
برطانیہ کے لیے یہ صورتحال ایک سفارتی چیلنج بن چکی ہے۔ ایک طرف ہوم آفس پر غیر ملکی مجرموں کو ملک بدر کرنے کا شدید دباؤ ہے، تو دوسری طرف قانونی رکاوٹیں ہر قدم پر آڑے آ رہی ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ حوالگی معاہدے کا نہ ہونا اس طرح کے معاملات کو طویل قانونی لڑائیوں میں الجھا دیتا ہے۔
اسحاق ڈار کا جواب دراصل اس بحث کا حتمی نقطہ ہے کہ جب تک کوئی ٹھوس میکانزم طے نہیں پاتا، برطانیہ اپنی مرضی سے کسی کو پاکستان کے حوالے نہیں کر سکتا۔ یہ صورتحال برطانوی حکومت کو ایک بار پھر اسی پرانے اور سست قانونی عمل کی طرف دھکیل دیتی ہے جہاں ہر کیس کو انفرادی بنیادوں پر لڑنا پڑتا ہے۔
اس معاملے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سفارت کاری میں عوامی جذبات اور قانونی تقاضے اکثر متصادم ہوتے ہیں۔ جب تک لندن اور اسلام آباد کسی نئے معاہدے پر متفق نہیں ہوتے، روچڈیل کیس کے مجرم کی برطانیہ سے بے دخلی کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا مشکل ہے۔ یہ سفارتی تعطل نہ صرف اس کیس بلکہ مستقبل میں پیش آنے والے اسی نوعیت کے دیگر معاملات پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔
