افغانستان میں تعلیم کا منظرنامہ اب اسکولوں سے نکل کر نجی گھروں کے تہہ خانوں اور بند کمروں تک محدود ہو چکا ہے۔ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے اور لڑکیوں کی سیکنڈری تعلیم پر پابندی کے بعد، ہزاروں طالبات نے اپنی پڑھائی جاری رکھنے کے لیے ایک زیرِ زمین نیٹ ورک کا سہارا لیا ہے۔
یہ کوئی سرکاری ادارے نہیں، بلکہ عام گھر ہیں جہاں اساتذہ اپنی جان اور آزادی کو خطرے میں ڈال کر کتابیں کھولتے ہیں۔
خطرہ ہر لمحہ موجود ہے۔ طالبان کی گشتی ٹیمیں محلوں میں سرگرم رہتی ہیں، اس لیے طالبات کو ایک ساتھ جانے کی اجازت نہیں۔ وہ اپنے بیگ برقعوں کے نیچے چھپاتی ہیں اور چھوٹے چھوٹے گروپوں میں گھروں میں داخل ہوتی ہیں تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔ یہاں ریاضی، سائنس اور انگریزی جیسی زبانیں سرگوشیوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔ پکڑے جانے کی صورت میں قید اور تشدد کا خوف ہمیشہ سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔
کابل میں پانچ طالبات کو پڑھانے والی ایک سابقہ استاد کہتی ہیں، "ہم صرف مضامین نہیں پڑھا رہے، ہم بقا کا درس دے رہے ہیں۔ جب ایک لڑکی پڑھنا سیکھتی ہے تو وہ سوال کرنا بھی سیکھتی ہے۔ اسی لیے وہ ہم سے خوفزدہ ہیں۔” انہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کا ہر دن ایک نئی حکمت عملی کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔
طالبان کی وزارتِ تعلیم بار بار "ثقافتی تقاضوں” اور "مناسب ماحول” کا حوالہ دے کر لڑکیوں کے اسکول جانے پر پابندی کا دفاع کرتی ہے۔ تاہم، زمینی حقائق اس بیانیے سے بالکل مختلف ہیں۔ پابندی کے باوجود تعلیم کی طلب میں کمی نہیں آئی، بلکہ یہ ایک خاموش تحریک بن چکی ہے۔
ڈیجیٹل تعلیم اس جنگ کا دوسرا محاذ ہے۔ بجلی اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باوجود، طالبات اب وی پی این کے ذریعے غیر ملکی این جی اوز کے آن لائن کورسز تک رسائی حاصل کر رہی ہیں۔ یہ ایک نازک رابطہ ہے—جو کبھی بیٹری کے چارج اور کبھی سگنل کی لہروں پر منحصر ہے—لیکن یہ ان لڑکیوں کے لیے زندگی کی واحد ڈور ہے۔
ذہنی دباؤ کی کیفیت تشویشناک ہے۔ ماہرین اسے ایک "کھوئی ہوئی نسل” قرار دے رہے ہیں۔ یونیورسٹی اور کیریئر کے دروازے بند ہونے سے ہزاروں لڑکیاں مایوسی کا شکار ہیں۔ ان گھروں کے والدین جن کے ہاں یہ اسکول چل رہے ہیں، کوئی سیاسی انقلاب نہیں چاہتے؛ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹیاں گھر کی چار دیواری میں قید ہو کر نہ رہ جائیں۔
پابندی کو چار برس مکمل ہونے کو ہیں، لیکن یہ خفیہ نیٹ ورک ٹوٹنے کے بجائے مزید منظم ہو رہا ہے۔ اساتذہ پرعزم ہیں اور طالبات اپنی کتابیں چھپا کر اگلی کلاس کے انتظار میں ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ خطرات کیا ہیں، لیکن انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ مستقبل کی تعمیر کے لیے اب صرف اندھیروں کا سہارا ہی باقی بچا ہے۔
