لاہور ہائی کورٹ نے آیت نور قتل کیس میں ابتدائی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی نئے سرے سے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ جسٹس علی ضیاء باجوہ نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ ایک نئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے جو کیس کے تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے گی۔
مقتولہ کے لواحقین طویل عرصے سے یہ موقف اختیار کیے ہوئے تھے کہ پولیس کی ابتدائی تفتیش ناقص اور مشکوک تھی۔ عدالت میں پیش کردہ دلائل کے مطابق، تفتیشی افسران نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کرنے میں غفلت برتی، جس سے ملزمان کو فائدہ پہنچا۔
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ تفتیش کا شفاف ہونا انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ نئی ٹیم کسی بھی قسم کے سیاسی یا مقامی دباؤ سے آزاد ہو کر کام کرے گی۔
یہ کیس نہ صرف ایک خاندان کی دہائی ہے بلکہ ملک میں بچوں کے تحفظ اور پولیس کے تفتیشی نظام پر اٹھنے والے سوالات کی علامت بھی بن چکا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شواہد کو ضائع کرنا یا انہیں درست طریقے سے محفوظ نہ کرنا تفتیش میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔
عدالت نے نئی جے آئی ٹی کو 15 دن کے اندر پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ یہ ڈیڈ لائن ظاہر کرتی ہے کہ عدلیہ اب کیس میں مزید تاخیر برداشت کرنے کو تیار نہیں۔
لواحقین کے لیے یہ عدالتی حکم ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ وہ مہینوں سے پولیس کی تیار کردہ رپورٹ کو چیلنج کر رہے تھے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا نئی ٹیم ان تکنیکی اور فرانزک شواہد کو تلاش کر پائے گی جو پہلے مرحلے میں نظر انداز کر دیے گئے تھے۔
آئی جی پنجاب کی جانب سے نئی جے آئی ٹی کے ارکان کے ناموں کا اعلان آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔ اب جب کہ کیس براہِ راست عدالتی نگرانی میں ہے، یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا پولیس کا نیا تفتیشی عمل انصاف کی توقعات پر پورا اتر پائے گا۔
