ٹرائل کورٹس میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے کیسز کو نمٹانے کی رفتار میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایک حالیہ تحقیقی جائزے کے مطابق، وہ عدالتیں جو انتظامی امور اور قانونی تحقیق کے لیے AI ٹولز کا استعمال کر رہی ہیں، ان کے پاس زیر التواء مقدمات کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ عدالتی عملے کے روٹین کے کام—جیسے دستاویزات کی چھانٹی اور کیس مینجمنٹ شیڈولنگ—میں لگنے والا وقت تقریباً 15 فیصد تک کم ہو گیا ہے۔ ججوں اور کلرکس کے لیے اس تبدیلی کا مطلب ہے کہ اب وہ دفتری فائل ورک کے بجائے قانونی نکات کے تجزیے پر زیادہ توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔
تاہم، اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر قانونی حلقوں میں تحفظات بھی پائے جاتے ہیں۔ وکلاء دفاع کا استدلال ہے کہ الگورتھمز پر انحصار کرنے سے عدالتی فیصلوں میں غیر ارادی تعصب کا عنصر شامل ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیچیدہ مقدمات، جن میں انسانی بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے، ممکن ہے کہ AI کے خودکار نظام میں نظر انداز ہو جائیں۔ محققین کا البتہ موقف ہے کہ فی الحال یہ ٹیکنالوجی صرف تنظیمی معاونت تک محدود ہے، نہ کہ عدالتی فیصلے سنانے تک۔
سب سے زیادہ بہتری ان عدالتوں میں دیکھی گئی جہاں دیوانی مقدمات اور چھوٹے دعووں کی بھرمار ہوتی ہے۔ ان عدالتوں میں کاغذی کارروائی کا حجم اکثر طویل التواء کا باعث بنتا ہے۔ ثبوتوں کی درجہ بندی اور کیسز کی ترتیب کو خودکار بنا کر، عدالتوں نے ٹرائل سے قبل کے مراحل کو کافی حد تک مختصر کر لیا ہے۔
کیسز کے تیزی سے حل ہونے کے باوجود، فیصلوں کے معیار پر اس کے طویل مدتی اثرات ابھی ایک سوالیہ نشان ہیں۔ قانونی مبصرین کو خدشہ ہے کہ کیسز کو جلد نمٹانے کے دباؤ کے باعث عدالتی کارروائی میں جلد بازی ہو سکتی ہے، جس سے انصاف کے تقاضے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
فی الحال اعداد و شمار یہی بتاتے ہیں کہ عدالتی نظام ٹیکنالوجی پر مبنی مستقبل کی جانب گامزن ہے۔ اب بحث یہ نہیں ہے کہ عدالتوں میں AI کا استعمال ہوگا یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ انصاف کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے اس ٹیکنالوجی پر کس حد تک انسانی نگرانی ضروری ہے۔
