اسلام آباد — وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے اتوار کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سیکیورٹی اداروں نے بھارت سے فنڈنگ لے کر سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد پھیلانے والے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ایک ماہر کو گرفتار کر لیا ہے۔ سرکاری میڈیا پر نشر ہونے والے اپنے پیغام میں وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ مذکورہ شخص کے کاروباری روابط بھارت سے جڑے ہوئے تھے، جہاں سے وہ پاکستان، فوج، آرمی چیف اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف مربوط پروپیگنڈا مہم چلانے کے لیے باقاعدہ رقوم وصول کر رہا تھا۔ عطا اللہ تارڑ نے مبینہ مالیاتی لین دین اور واٹس ایپ چیٹس کے اسکرین شاٹس بھی میڈیا کے سامنے پیش کیے، جن کا مقصد ملک میں حالیہ بے امنی اور فرقہ وارانہ رنگ کو ہوا دینا تھا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ مالیاتی نگرانی کے اداروں (ایف ایم یو) کی نظروں سے بچنے کے لیے ڈیجیٹل پیمنٹ گیٹ ویز کے ذریعے چھوٹی چھوٹی رقمیں منتقل کی جا رہی تھیں، جس کی اب تفصیلی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گرفتار ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اسے زیادہ تر مواد کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے حوالے سے ملتا تھا، جسے حکومت نے 9 جون کے احتجاج کے بعد ممنوعہ تنظیم قرار دیا تھا۔ عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ اس نیٹ ورک کے پکڑے جانے سے کالعدم تنظیم اور بھارت کا گٹھ جوڑ روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گیا ہے جو کشمیر کاز کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں اور مئی 2025 کے تنازع میں بھارت کو ملنے والی شکست دشمنوں کے لیے ہضم کرنا مشکل ہو رہی ہے، اسی لیے اس طرح کے گروہ سرگرم کیے جا رہے ہیں۔
