آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت تاحال بہت محدود ہے اور تجارتی جہاز معمول کے مطابق اس راستے سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکہ۔ایران تعطل نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے باعث دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک پر غیر یقینی کیفیت برقرار ہے۔
حالیہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاز رانی میں کمی صرف حفاظتی خدشات کی وجہ سے نہیں بلکہ سیاسی اور عسکری تناؤ بھی اس کی بڑی وجہ ہے۔ ایران نے عندیہ دیا ہے کہ اگر اس پر دباؤ کم کیا جائے اور جاری محاذ آرائی میں کمی آئے تو آبنائے ہرمز کے معاملے میں نرمی ممکن ہے، مگر دوسری جانب امریکی دباؤ میں کمی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ اسی وجہ سے تجارتی جہازوں کے مالکان اور بحری کمپنیاں شدید احتیاط برت رہی ہیں۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اس اہم آبی راستے میں صرف بہت محدود بحری سرگرمی دیکھی جا رہی ہے۔ کئی تجارتی جہاز یا تو اپنا راستہ بدل رہے ہیں یا پھر انتظار کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بحری کمپنیوں کے لیے مسئلہ صرف سفر کا نہیں، بلکہ انشورنس لاگت، ممکنہ حملوں، تلاشی، روک تھام اور ضبطی جیسے خطرات بھی بڑھ چکے ہیں۔
امریکی کارروائیوں نے بھی اس کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ مختلف بحری کارروائیوں کے دوران متعدد تجارتی جہازوں کو روکا گیا، ان کی جانچ پڑتال کی گئی، اور بعض مواقع پر انہیں بعد میں چھوڑ دیا گیا۔ ان اقدامات نے یہ تاثر مزید مضبوط کیا ہے کہ خطے میں تجارتی سفر اب صرف معاشی سرگرمی نہیں رہا بلکہ ایک حساس تزویراتی مسئلہ بن چکا ہے۔
ادھر سخت بیانات اور عسکری تیاریوں نے بھی حالات کو معمول پر آنے نہیں دیا۔ بارودی سرنگوں کے خطرات، بحری نگرانی، چھوٹی کشتیوں کی سرگرمیوں اور ممکنہ تصادم کے خدشات نے فضا کو مزید کشیدہ بنا رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی بھی تجارتی بحری راستے کی مکمل بحالی فوری طور پر ممکن دکھائی نہیں دیتی۔
سفارتی سطح پر بھی کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، مگر دونوں ممالک کے مؤقف میں اب بھی نمایاں فاصلہ موجود ہے۔ ایران دباؤ کے خاتمے اور شرائط میں نرمی چاہتا ہے، جبکہ امریکہ اپنی حکمت عملی میں فوری تبدیلی کے موڈ میں نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز بظاہر کھلی ہونے کے باوجود عملاً شدید دباؤ اور خوف کی کیفیت میں جکڑی ہوئی ہے۔
یہ صورتحال صرف خطے تک محدود نہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے، اس لیے یہاں معمولی رکاوٹ بھی عالمی منڈی، توانائی کی قیمتوں اور بحری تجارت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ موجودہ تعطل سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ صرف بحری سلامتی نہیں بلکہ سیاسی اعتماد کے فقدان کا ہے۔
جب تک امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم نہیں ہوتی اور کوئی قابلِ عمل سیاسی راستہ سامنے نہیں آتا، تب تک امکان یہی ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی معمول سے بہت کم رہے گی اور عالمی منڈیاں اس غیر یقینی صورتحال کے دباؤ میں رہیں گی۔
