قومی احتساب بیورو (نیب) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران 2.962 کھرب روپے کی وصولی کی ہے۔ ادارے کے مطابق یہ ایک غیر معمولی کارکردگی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیب نے نئے سال کا آغاز نہایت مؤثر انداز میں کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس بڑی وصولی کا زیادہ تر حصہ سرکاری زمینوں کی واگزاری سے حاصل ہوا۔ بتایا گیا ہے کہ کراچی اور سکھر کے نیب دفاتر نے مجموعی طور پر 54 ہزار 387 ایکڑ سرکاری اراضی واگزار کرائی، جس کی مالیت 2.89 کھرب روپے بتائی گئی۔ اسی طرح لاہور اور ملتان کے دفاتر نے 4 ہزار 34 ایکڑ زمین واپس دلائی، جس کی مالیت 23.33 ارب روپے ہے، جبکہ بلوچستان میں 51 ہزار 577 ایکڑ اراضی واگزار کرائی گئی، جس کی مالیت 36.54 ارب روپے بتائی گئی۔
یہ اعداد و شمار اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ نیب پہلے ہی گزشتہ برس اپنی کارکردگی کو غیر معمولی قرار دے چکا ہے۔ 2025 کے حوالے سے جاری تفصیلات میں کہا گیا تھا کہ ادارے نے پورے سال کے دوران 6.213 کھرب روپے کی وصولی کی، جو اس کے قیام کے بعد ایک سال میں ہونے والی بلند ترین وصولیوں میں شمار کی گئی۔ اسی تسلسل میں اب 2026 کی پہلی ہی سہ ماہی میں اتنی بڑی رقم کی وصولی کو نیب اپنی مضبوط کارکردگی کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
نیب کی حالیہ حکمت عملی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ادارہ خاص طور پر قیمتی سرکاری اراضی کی واگزاری پر توجہ دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ عرصے میں مختلف شہروں سے زمینوں کی واپسی اور سرکاری اثاثوں کے تحفظ سے متعلق خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ اس تناظر میں پہلی سہ ماہی کے یہ اعداد و شمار نیب کے اسی مؤقف کو مزید تقویت دیتے ہیں۔
تاہم اس خبر کا ایک پہلو احتیاط کا بھی متقاضی ہے۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار مختلف ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئے ہیں، لیکن اس مخصوص سہ ماہی کی تفصیلی سرکاری رپورٹ ہر جگہ فوری طور پر دستیاب نہیں۔ اس لیے ان اعداد و شمار کو فی الحال نیب کے دعوے کے طور پر ہی لینا زیادہ مناسب ہوگا، جب تک مکمل سرکاری تفصیلات سامنے نہ آ جائیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو نیب نے 2026 کے آغاز میں ایک بڑا عددی تاثر قائم کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ کارکردگی آنے والے مہینوں میں بھی اسی رفتار سے برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ بہرحال، پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار نے یہ تاثر ضرور دیا ہے کہ ادارہ سال کا آغاز بھرپور انداز میں کرنا چاہتا ہے۔
