برطانیہ اور اسپین نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان نیٹو اتحادیوں کے خلاف تادیبی اقدامات پر غور کر رہے ہیں جنہوں نے ایران جنگ کے دوران واشنگٹن کا ساتھ نہیں دیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ایسے آپشنز زیرِ بحث آئے جن میں فوجی تعیناتیوں میں رد و بدل، سفارتی دباؤ، اور بعض اتحادیوں کے خلاف علامتی مگر سخت سیاسی اقدامات شامل تھے۔
برطانیہ کے حوالے سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ایک لیک ہونے والی پینٹاگون میمو میں فاک لینڈ جزائر پر امریکی مؤقف کا دوبارہ جائزہ لینے کی بات کی گئی، مبینہ طور پر اس وجہ سے کہ لندن نے ایران تنازع میں واشنگٹن کو وہ عسکری تعاون فراہم نہیں کیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ تاہم ڈاؤننگ اسٹریٹ نے واضح کیا کہ برطانیہ کا فاک لینڈز سے متعلق مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور خود ارادیت کے اصول پر قائم ہے۔ برطانوی حکومت نے یہ بھی اشارہ دیا کہ امریکہ کے ساتھ سکیورٹی تعلقات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن اس معاملے میں اس کے مؤقف پر کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔
اسپین نے بھی معاملے کو زیادہ اہمیت دینے سے گریز کیا، مگر اس کا پیغام صاف تھا۔ ہسپانوی وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز نے یہ مؤقف دہرایا کہ ان کی حکومت بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہ کر فیصلے کرتی ہے اور اسی قانونی بنیاد پر اس نے ایران جنگ میں امریکی کارروائیوں سے فاصلہ رکھا۔ اس سے پہلے بھی ٹرمپ اسپین کو ایران جنگ میں تعاون نہ کرنے اور دفاعی اخراجات کے معاملے پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے غصے کا ایک بڑا سبب یہ تھا کہ اسپین، برطانیہ اور بعض دوسرے یورپی اتحادیوں نے امریکی افواج کو اپنے اڈے یا فضائی حدود استعمال کرنے کی مکمل سہولت نہیں دی۔ اسی پس منظر میں یہ بحث سامنے آئی کہ کیا واشنگٹن ایسے اتحادیوں سے فوجی اثاثے ہٹا کر اُن ممالک کی طرف منتقل کر سکتا ہے جنہیں زیادہ وفادار یا تعاون کرنے والا سمجھا جا رہا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایسے خیالات پر سنجیدگی سے غور ہوا، اگرچہ ان میں سے ہر تجویز عملی یا قانونی طور پر آسان نہیں تھی۔
اسپین سے متعلق ایک اور غیر معمولی دعویٰ یہ بھی سامنے آیا کہ اسے نیٹو سے معطل کرنے جیسے خیالات گردش میں تھے۔ لیکن یورپی رپورٹس کے مطابق نیٹو کے بنیادی معاہدے میں کسی رکن ملک کو معطل یا خارج کرنے کی واضح شق موجود نہیں، اس لیے ایسا قدم زیادہ تر سیاسی دباؤ یا علامتی دھمکی کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ فوری قابلِ عمل پالیسی کے طور پر۔
یہ تنازع صرف ایران جنگ تک محدود نہیں رہا۔ دراصل یہ نیٹو کے اندر ایک بڑے سوال کو پھر سے سامنے لے آیا ہے: کیا اتحادیوں پر لازم ہے کہ وہ ہر امریکی فوجی اقدام میں ساتھ دیں، یا انہیں بین الاقوامی قانون، اپنی داخلی سیاست اور علاقائی مفادات کے مطابق الگ راستہ اختیار کرنے کا حق حاصل ہے؟ برطانیہ اور اسپین کے حالیہ ردِعمل سے یہی تاثر ملتا ہے کہ دونوں ممالک واشنگٹن کے دباؤ کے باوجود اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔
